1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانسیسی ٹریڈ یونین نے سخت لائحہ عمل کا اعلان کر دیا

فرانسیسی صدر پینشن اصلاحات پر اپنے سخت مؤقف پر برقرار ہیں۔ دوسری طرف سے اس مجوزہ اصلاحاتی قانون کے مخالفین نے احتجاجی مہم میں تیزی لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ متوقع طورپر جمعہ کو سینیٹ میں اس بل پر حتمی ووٹنگ کی جائے گی۔

default

مظاہرین کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے

جمعرات کو پیرس میں ایک ملاقات کے بعد مرکزی ٹریڈ یونینوں کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ ملک گیر سطح پر دو مزید ہڑتالیں کریں گی۔ اطلاعات کے مطابق اٹھائیس اکتوبر اور چھ نومبر کو ملک گیر سطح پر ہرتال کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر میں دیگر مزدور یونینوں کے علاوہ نجی اور سرکاری شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ پینشن قوانین میں اصلاحات لانے کے منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فرانس کی چھ بڑی ٹریڈ یونینوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ صدر نکولا سارکوزی کی طرف سےتجویز کی گئی پینشن اصلاحات کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گی۔ جمعرات کو پیرس میں منعقدہ ایک اجلاس کے بعد یونینوں کے اتحاد نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، ’ مزید مظاہروں کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ وہ اپنے مؤقف کو تبدیل کرنے پر تیار نہیں ہے۔‘

NO FLASH Streik in Frankreich

فرانسیسی صدر نے قانون توڑنے والوں کو سخت سزا دینے کا عہد کیا ہے

دوسری طرف صدر نکولا سارکوزی نے کہا ہے کہ پینشن اصلاحات کا مجوزہ قانون ہر صورت میں پاس کیا جائے گا۔ انہوں نے مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں کے دوران قوانین کو توڑنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ نکولا سارکوزی نے کہا،’ ملک کی معیشت، کمپنیوں اور عوام کی روز مرہ زندگیوں کو درہم برہم کرنے سے ہم ملازمتوں کے مواقع گنوا دیں گے۔‘

متوقع طور پر جمعہ کو اس قانونی بل پر ووٹنگ ہوگی۔ اس موقع پر سینیٹ کی عمارت کے باہر پر امن مظاہرین نے دھرنا دے رکھا ہے جبکہ ملک کے کئی دیگر علاقوں میں پر تشدد مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے، جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پولیس نے مظاہرین کومنشتر کرنے کے لئے تیز دھار پانی برسایا۔

جمعرات کی صبح نکولا سارکوزی نے سینیٹ سے کہا تھا کہ وہ اس بل پر بحث کو مختصر کرتے ہوئے چوبیس گھنٹوں کے دوران اس پر ووٹنگ کروائے۔ ایوان زیریں سے پہلے ہی سے منظور شدہ اس بل میں اپوزیشن کے سینیٹرز نے ایک ہزار ترامیم تجویز کی ہیں۔

ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سے باسٹھ برس جبکہ مکمل پینش کی عمر پینسٹھ سے سڑسٹھ برس کرنے پرعوامی غصہ نمایاں ہے۔ ٹریڈ یونین اتحاد کے علاوہ عام شہری بھی اس مجوزہ قانونی کی مخالفت کرتے نظرآ رہے ہیں۔ اس مجوزہ اصلاحاتی بل پر گزشتہ آٹھ روز سے مظاہرے جاری ہیں۔ اہم امر یہ ہے کہ اس مرتبہ طلبا اور طالبات بھی اب ان مظاہروں میں شرکت کررہے ہیں۔

NO FLASH Streik in Frankreich

فرانسیسی شہر لیون میں مظاہروں میں شریک ایک نوجوان طالب علم زخمی حالت میں گرفتار ی کے وقت

فرانس میں تاریخی مظاہروں کے دوران گزشتہ دس دنوں سے ہزاروں مظاہرین نے ملک کے کئی اہم آئل ڈپوز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں ایندھن کی کمی سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت فرانس میں ایک چوتھائی پیٹرول سٹیشن پٹرول کی سخت قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM