1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فرانسیسی وزیر کو متنازعہ جملے پر جرمانے کی سزا

فرانسیسی وزیر داخلہ ’بریس ہورتےفو‘کو ایک شہری سے متعلق متعصب بیان دینے پر دو ہزار یورو زر تلافی کے طور پر ادا کرنے اور ساڑھے سات سو یورو جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔

default

فرانسیسی وزیر داخلہ: فائل فوٹو

صدر نکولا سارکوزی کی برسراقتدار یو ایم پی جماعت سے وابستہ بریس ہورتےفو (Brice Hortefeux) نے یہ بیان ایک سال قبل ایک نجی محفل میں دیا تھا جو ان کے گلے پڑ گیا ہے۔ یہ وزیر، صدر سارکوزی کے پرانے دوست ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 2007ء میں سارکوزی نے بریس ہورتےفو کو تارکین وطن کی وزارت تفویض کی تھی۔ اسی دوران ایک نجی محفل میں انہوں نے ایک عرب نژاد فرانسیسسی شہری سے متعلق عام مذاق کیا تھا۔ اس کی ویڈیو عام ہوئی تو وزیر کے جملے میں تعصب کا طنز محسوس کیا گیا۔

 ویڈیو میں دکھایا گیا ہےکہ ان کی جماعت ’یو ایم پی‘ سے وابستہ ایک کارکن نے وزیر موصوف کا ایک اور عرب کارکن  سے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ :’’ان کا نام امین ہے، یہ کیتھولک ہیں اور پورک بھی کھاتے ہیں اور الکحل بھی پیتے ہیں۔‘‘ اسی اثنا میں بریس ہورتےفو قہقہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ :’’ آہ، اس سے بات نہیں بنے گی، یہ اصل سے مماثلت نہیں رکھتے۔‘‘ پھر

Nicolas Sarkozy

ایک سرکاری میٹنگ میں فرانسیسی صدر کے قریب وزیر داخلہ بریس ہورتےفو دکھائی دے رہے ہیں: فائل فوٹو

مہمانوں کے ہجوم میں سے کسی کی آواز آتی ہے کہ :’’ یہ ہم ہی میں سے ایک ہے، یہ ہمارا چھوٹا عرب ہے۔‘‘ اس پر وزیر کا زیادہ متنازعہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ :’’ ہمیں ہمیشہ ایک ہی چاہیے، مسئلہ جب ہے جب ایسے بہت سے ہوں۔‘‘

بریس ہورتےفو نے اپنے اوپر عائد کئے گئے جرمانے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ ہر گز بھی متعصب نہیں تھے اور ان کا اشارہ تصویروں کی تعداد کی جانب تھا اس شہری کی جانب نہیں۔ جس عرب نژاد شہری کا ذکر کیا گیا ہے اس کا کہنا ہے اسے اس بیان سے ہرگز بھی ہتک عزت محسوس نہیں ہوئی تھی۔

 یاد رہے کہ یورپ بھر میں مسلمان تارکین وطن کی سب سے زیادہ تعداد فرانس میں مقیم ہے۔ پیرس حکومت کو انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے سے متعلق مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ فرانس میں منعقدہ ایک حالیہ جائزے سے ثابت ہوا ہے کہ ہر دسواں فرانسیسی شہری متعصب ہے۔ BVA انسٹیٹیوٹ کے تحت منعقدہ ایک جائزے کے مطابق تیس فیصد شہری سمجھتے ہیں کہ فرانسیسی میڈیا پر یہودیوں کا اثر ورسوخ ہے، اٹھائیس فیصد کے مطابق فرانس میں مقیم عرب جرائم میں زیادہ ملوث ہیں جبکہ پچاس فیصد کی رائے میں پناہ گزین سماجی بہبود کے قوانین سے زیادہ فائدے اٹھارہے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین