1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

فرانسیسی مہاجر بستی میں آتش زدگی کے بعد سینکڑوں مہاجر ’غائب‘

شمالی فرانس میں چند روز قبل ایک مہاجر بستی میں مبینہ طور پر کرد اور افغان تارکین وطن کے درمیان جھڑپوں اور کیمپ کو آگ لگا دینے کے بعد سے کئی سو تارکین وطن ’غائب‘ ہیں۔

ایک ایسے موقع پر، جب گراندے سینتھے کے مہاجر مرکز میں آتش زدگی کے بعد اس کیمپ کے مہاجرین کو دیگر مقامات پر چھت فراہم کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں، بتایا گیا ہےکہ کئی سو تارکین وطن اس واقعے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ اس کیمپ میں رہنے والے مہاجرین کے دو گروپوں کے درمیان تصادم کے دوران کیمپ میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں اس مہاجر مرکز کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔ اس واقعے میں دس تارکین وطن زخمی بھی ہو گئے تھے۔

پولیس نے منگل کے روز متاثرہ مرکز کے معائنے کے بعد بتایا کہ پیر کو لگنے والی آگ کے اسباب جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Frankreich Brand in Flüchtlingslager nahe Dünkirchen (Getty Images/AFP/P. Huguen)

فرانسیسی مہاجر کیمپ آتش زدگی کے نیتجے میں جل کر خاکستر ہو گیا تھا

انگلش چینل کہلانے والی سرنگ کے قریب شمالی فرانسیسی بندرگاہی علاقے میں کیلے کی مہاجر بستی کے خاتمے کے بعد مہاجروں کو اس مرکز میں بسایا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ مہاجرین کے درمیان تصادم کے وقت اس مرکز میں 16 سو تارکین وطن موجود تھے، جن میں سے 500 کو اب مختلف اسکولوں اور دیگر مقامات پر رہائش فراہم کی گئی ہے تاہم سینکڑوں دیگر تارکین وطن لاپتہ ہیں۔

امدادی ادارے مصروفِ عمل ہیں کہ متاثرہ تارکین وطن کو چھت فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جانا چاہییں، اسی تناظر میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈز اور دیگر امدادی تنظمیوں نے منگل کے روز ملاقات بھی کی تھی۔

ایک امدادی تنظیم کے مطابق فی الحال سب سے اہم ترجیح مہاجرین کو تلاش کرنا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کم از کم چھ سو مہاجرین ’غائب‘ ہیں اور خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ بعض تو حکام کے ڈر سے چھپے ہوئے ہیں اور بعض اس لیے سامنے نہیں آ رہے کیوں کہ انہیں خوف ہے کہ ممکنہ طور پر انہیں کسی مہاجر مرکز میں پھر سے اپنے مخالف گروپ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔