1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فرانسیسی مجسمہ ساز ڈیگا کے نایاب فن پاروں کی نمائش

ایڈگر ڈیگا مجسمہ سازی میں ایک مسلمہ حثیت رکھتے ہیں۔ ڈیگا مجسمہ سازی کے علاوہ پینٹنگ، ڈرائنگ اور پرنٹنگ میں بھی ایک خاص مقام کے حامل ہیں۔ ان کو مصوری کے اسلوب’امپریشنزم‘ کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

default

مشرقی یورپی ملک بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں فرانس کے شہرہء آفاق مجسمہ ساز ایڈگر ڈیگا کے تانبے کے بنے ہوئے 74 مختلف نوعیت کے مجسموں کی نمائش جمعرات سے شروع ہو گئی ہے۔ نمائش کا مقام صوفیہ کی نیشنل آرٹ گیلری ہے۔ صوفیہ میں یہ نمائش اکتوبر کی 29 تاریخ تک جاری رہے گی۔ اس نمائش میں مصوری اور آرٹ کے اسلوب ’امپریشنزم‘ کے اوائل عہد کے نایاب و نادر نمونے رکھے گئے ہیں، جو عالمی جمالیاتی ورثے کا حصہ اور ایک بیش قیمت اثاثہ شمار ہوتے ہیں۔

اس نمائش میں دراصل ڈیگا کے مشہور شاہکاروں کی نقول رکھی گئی ہیں۔ ڈیگا نے اپنی ساری زندگی میں کل 150 مجسمے تراشے تھے۔ ان کے لئے انہوں نے موم، مٹی اور چونے کا استعمال کیا تھا۔ ان میں سے تقریباً آدھے

Edgar Germain Hilaire Degas

ایڈگر ڈیگا

وقت کے ساتھ ساتھ تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کے خاندان نے ڈیگا کے شاہکاروں کو سنبھالنے کی خاطر تانبے کی نقول بنائی تھیں۔ اس طرح ان شاہکاروں کو محفوظ کرنے کی یہ ایک کوشش ہے۔ ڈیگا کے مرنے کے بعد یہ مجسمے ان کے سٹوڈیو سے ڈیگا فیملی نے حاصل کئے تھے۔

ڈیگا کے تانبے میں ڈھالے گئے مجسموں کی دو نمائشیں گزشتہ ایک سال کے دوران منعقد ہو چکی ہیں۔ اس سال مارچ میں ہونے والی نمائش کا مقام اسرائیل کا کاروباری مرکز تل ابیب تھا اور گزشتہ نومبر میں ان مجسموں کی ایک عام نمائش یورپی ملک یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں کی گئی تھی۔ مزید نمائشوں کے لئے منصوبہ بندی جاری ہے۔

ڈیگا کے تخلیق کردہ تقریباً تمام مجسموں کی نمائش ان کی زندگی میں ممکن نہیں ہو سکی تھی۔ ان کا انتقال بیسویں صدی میں سن 1917 میں ہوا تھا۔ ڈیگا کی زندگی میں صرف ایک مجسمے کو لوگوں کی نگاہوں نے دیکھا تھا اور وہ ’دی لٹل ڈانسر ۔ ایجڈ فورٹین‘ تھا۔

صوفیہ میں نمائش کے لئے رکھے گئے تمام مجسموں کی ملکیت جمالیاتی آرٹ کے ایک امریکی ادارے ایم ٹی ابراہم سینٹر کے پاس ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس