1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

فرانسیسی صدارتی دوڑ میں شامل والز پر مہاجرین کے موضوع پر تنقید

سابق فرانسیسی وزیر اعظم اور صدارتی عہدے کے لیے امیدواری کے خواہش مند مانوئل والز کو اتوار کے روز مہاجرین کے حوالے سے ان کے موقف پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اتوار کے روز صدارتی امیدواری کے لیے سوشلسٹ جماعت کے مذاکرے کے دوران سابق وزیر اعظم کے اس بیان پر کہ ان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں چند ہزار مہاجرین ہی فرانس آ پائے، انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ صدر فرانسوا اولانڈ کی جانب سے عہدہ صدارت کے لیے میدان میں نہ اترنے کے اعلان کے بعد والز نے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ اب سوشلسٹ جماعت کی جانب سے صدارتی امیدواری کے خواہش مند ہیں۔

سابق وزیر تعلیم اور اس دوڑ میں شامل وَینساں پیئیاں نے کہا، ’’میرے خیال میں فرانسیسی عوام اپنے رہنماؤں سے زیادہ کھلے دل کے مالک ہیں۔‘‘

صدارتی امیدوار بننے کے ایک اور خواہش مند رہنما بَینُوآ آموں کا اس صدارتی بحث میں کہنا تھا، ’’فرانس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اقدار کی حفاظت کرے اور خصوصاﹰ جب معاملہ مہاجرین اور تارکین وطن کا ہو۔‘‘

اس کے جواب میں والز نے کہا، ’’مہاجرین کے لیے دروازے کھول دینے کی پالیسی ممکن نہیں ہے۔‘‘

Frankreich Manuel Valls PK zur Kandidatur in Paris (Reuters/C. Platiau)

والز کے مطابق مہاجرین کے لیے دروازے نہیں کھولے جا سکتے

ان کا مزید کہنا تھا، ’’میرے خیال میں فرانس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پالیسی جاری رکھے اور تاریخ نے ہمیشہ ہمیں درست ثابت کیا ہے۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ سن 2015ء میں شام اور عراق جیسے جنگ زدہ علاقوں سے لاکھوں افراد یورپی یونین میں داخلے ہوئے اور اسے دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کا سب سے بڑا بحران قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم یورپی یونین پہنچنے والے مہاجرین کی زیادہ تر تعداد کو جرمنی نے اپنے ہاں جگہ دی۔

جرمنی میں اب تک قریب نو لاکھ افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں، تاہم یہ بحث یورپ بھر میں جاری ہے کہ یورپی یونین کی رکن دیگر ریاستیں یہ بوجھ بانٹنے کو تیار کیوں نہیں؟

فرانس میں رواں برس صدارتی انتخابات کا انعقاد ہونا ہے اور سوشلسٹ پارٹی اپنے امیدوار کا انتخاب اگلے ہفتے کرے گی اور پارٹی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 29 جنوری کو منعقد ہو گا۔

فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ سوشلسٹ پارٹی میں والز کی مقبولیت زیادہ ہے، تاہم وہ ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد ہی اپنی جماعت کی جانب سے صدارتی امیدواری حاصل کر پائیں گے۔