1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فرانسیسی شہر کن میں برقعے کے بعد اب ’برقینی‘ پر بھی پابندی

فرانسیسی حکومت نے شہر کن میں مسلمان خواتین کے تیراکی کے لباس ’ بٰرقینی ‘ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کا دفاع کرتے ہوئے ایک فرانسیسی اہلکار کا کہنا ہے کہ بٰرقینی کی طرز کا لباس شدت پسندی کی علامت بن سکتا ہے۔

Australien Frau mit Burkini am Strand von Sydney

فرانسیسی شہر کن کے مئیر کے مطابق برقینی کی طرز کا لباس شدت پسندی کی علامت بن سکتا ہے

فرانس میں حکام کے مطابق فرانسیسی شہر کن کے مئیر ڈیوڈ لزنارڈ نے ایک قانون پر دستخط کرتے ہوئے تیراکی کے ایک مخصوص لباس پر پابندی عائد کر دی ہے جسے عموما مسلمان خواتین پہنتی ہیں۔ اس حکم نامے میں تحریر ہے کہ ساحلوں پر ایسے افراد کا جانا ممنوع ہو گا جو تیراکی کے لیے ایسا لباس پہنے ہوئے ہوں جو سیکولرزم اور مذہبی اعتدال پسندی کے منافی ہو۔ اس قانون کے مطابق کن کے ساحلوں پر سوئمنگ کے بعض لباسوں پر پابندی سیکیورٹی خدشات کے باعث عائد کی گئی ہے۔ اس فرمان میں مزید کہا گیا ہے،’’ ایسے حالات میں جبکہ فرانس اور عبادت گاہیں دہشت گردانہ حملوں کا ہدف بنی ہوئی ہیں، ایسے لباس پہننا جن سے مذہبی وابستگی جھلکتی ہو، نقص امن کا باعث ہو سکتا ہے جسے روکنا ضروری ہے۔‘‘ ایک فرانسیسی اہلکار نے بتایا ہے کہ اس قانون پر عمل در آمد اسی ماہ سے شروع ہو جائے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو اڑتیس یورو جرمانہ ہو گا۔ کن میں میونسپل سروسز کے سربراہ نے البتہ اس رولنگ کے حوالے سے کہا ہے،’’کن میں مذہبی علامتی لباس پہننے پر پابندی نہیں ہے۔ بلکہ نئے قانون میں ایسا لباس پہننے پر بین لگایا گیا ہے جو ان دہشت گرد تحریکوں سے وابستگی ظاہر کریں جن سے ہم حالت جنگ میں ہیں۔‘‘

Deutschland - Mädchen in Burkini

نئے قانون کی رو سے ساحلوں پر ایسے افراد کا جانا ممنوع ہو گا جو تیراکی کے لیے ایسا لباس پہنے ہوئے ہوں جو سیکولرزم اور مذہبی اعتدال پسندی کے منافی ہو

فرانس میں سلسلہ وار دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں سے دو حملے رواں موسم گرما میں ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ کی چھبیس تاریخ کو جہادی گروپ اسلامک سٹیٹ سے تعلق رکھنے والے دو حملہ آوروں نے شمال مغربی فرانس میں ایک پادری کو قتل کر دیا تھا۔ اس سے قبل چودہ جولائی کو فرانس کے جنوبی شہر نِیس میں قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ایک تیز رفتار ٹرک نے ہجوم کو کچل دیا تھا اور اس دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے میں پچاسی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری اسلامک سٹیٹ نے قبول کی تھی۔ فرانس میں پہلے ہی سے چہرے پر مکمل نقاب کے استعمال پر پابندی ہے تاہم لوگوں پر مذہب سے منسوب اشیاء اور لباس پہننے پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

DW.COM