1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانسیسی ریجنل الیکشن اور سارکوزی کی مشکلات

فرانس میں مقامی کونسلرز کے انتخابات کے سلسلے میں پولنگ جاری ہے یہ انتخابات دو مرحلوں میں ہو رہے ہیں۔ پہلا مرحلہ اتوار چودہ مارچ اور دوسرا آئندہ اتوار اکیس مارچ کو ہے۔ سوشلسٹ جماعت کامیابی کے حوالے سے پر امید ہے۔

default

سارکوزی اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے

فرانس میں صدر نکولا سارکوزی کی قدامت پسند حکومت کو حقیقی معنوں میں علاقائی یا مقامی الیکشن میں مشکل کا سامنا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتیں اِن انتخابات میں یقینی کامیابی کے دعووں ساتھ حصہ لے رہی ہے۔ فرانس میں قومی الیکشن کا سال سن 2012 ہے۔ لیکن علاقائی الیکشن ایک طرح سے حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کی مقبولیت کا امتحان خیال کئے جا رہےہیں۔

الیکشن میں ووٹرز کے سامنے عالمی کساد بازاری اور اُس کے فرانسیسی معیشت پر اثرات کا موضوع سب سے اہم ہے۔ ووٹرز کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ سارکوزی حکومت نے کساد بازاری کے حوالے سے جن پالیسیوں کو اپنایا وہ کتنی قابل عمل اور ثمرآور رہیں۔ اِن انتخابات میں بے روزگاری خاص طور پر اہمیت اختیار کئے ہوئے ہے۔ کسادبازاری کے باعث فرانس میں نوکریوں سے محروم افراد کی تعداد تیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ عوامی رائے عامہ بھی یہ محسوس کرتی ہے کہ سارکوزی حکومت سماجی بھلائی کے معاملے کو کلی طور پر سنبھالنے میں ناکام رہی ہے۔

Frankreich, Wahl, Präsidentenwahl, Ségolène Royal

عوامی جائزوں کے مطابق نکولا سارکوزی کی جماعت کو ممکنہ طور پر شکست ہو سکتی ہے

دوسری جانب فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی فی الوقت اپنی مقبولیت سے محروم ہو رہے ہیں۔ ملک کے اندر اُن کی شہرت کا گراف مسلسل روبہ زوال ہے۔ سن 2007 کے بعد وہ مقبولیت کی انتہائی کم سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ سن 2012 کے انتخابات میں سابقہ الیکشن کی طرح وہ ناقابل شکست نہیں ہوں گے۔ ان کی غیر مقبولیت میں حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اُن کے خانگی مسائل بھی شامل ہیں۔ اسی غیر مقبولیت کے تناظر ہی میں وہ انتخابی مہم سے دور رہے اور ان کے وزیر اعظم Francois Fillon کو انتخابی جلسوں میں عوامی تمسخر اور حکومت مخالف نعروں کا سامنا کرنا پڑا۔

سیاسی ماہرین کا اتفاق ہے کہ اگر موجودہ ماحول جوں کا توں رہا تو اگلے انتخابات میں کامیابی بائیں بازو کے حصے میں آ سکتی ہے۔ اِس وقت بھی سوشلسٹ جماعت کو فرانس کے علاقائی حصوں میں برتری حاصل ہے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق مقامی الیکشن سوشلسٹ جماعت کے لئے گرینڈ سلیم ثابت ہو سکتے ہیں اور وہ تمام 26 علاقائی حکومتوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی پوزیشن میں ہے۔ فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی کی سربراہ مارٹینے آبری بھی کامیابی کے حوالے سے بہت پر امید ہیں۔ اُن کے خیال میں اکیس مارچ کو مقامی انتخابات کی تکمیل کے بعد ان کی جماعت کا محور اگلے صدارتی الیکشن ہوں گے۔

مقامی انتخابات میں 44 ملین کے قریب ووٹرز کو مختلف علاقوں کے لئے 1880 کونسلرز کا چناؤ کرنا ہے۔ کئی مقامات پر سارکوزی کی پارٹی سوشلسٹ جماعت کو سخت مقابلہ دے سکتی ہے۔

رپورٹ : عابد حسین

ادارت : عاطف توقیر