فرانسیسی خاتون پر ایرانی محبوب اسمگل کرنے کا مقدمہ | مہاجرین کا بحران | DW | 27.06.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

فرانسیسی خاتون پر ایرانی محبوب اسمگل کرنے کا مقدمہ

فرانس کی مہاجرین مخالف جماعت نیشنل فرنٹ کی ایک حامی فرانسیسی خاتون کو اپنے ایرانی محبوب کو انگلش چینل کے ذریعے غیرقانونی طور پر برطانیہ پہنچانے میں مدد فراہم کرنے پر ایک مقدمے کا سامنا ہے۔

بیاٹریس ہُرے کو شمالی فرانسیسی شہر کیلے کے سابقہ جنگل کیمپ میں بسنے والے مختار نامی ایک مہاجر کو رات کی تاریکی میں ایک کشتی کے ذریعے فرانس سے نکلنے میں مدد دینے کے الزامات میں جیل جانا پڑ سکتا ہے۔

45 سالہ یہ خاتون ان رضاکاروں میں شامل رہی ہے، جو کیلے کی مہاجر بستی میں مہاجرین کی مدد میں مصروف رہے۔ ہُرے ان متعدد افراد میں سے ایک ہیں، جنہیں فرانس میں حالیہ کچھ ماہ میں تارکین وطن کو غیرقانونی مدد فراہم کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ ان میں سے کسی کو ابھی تک جیل تو نہیں بھیجا گیا مگر ایک کسان کو ایسے ہی ایک الزام میں تین ہزار یورو جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ہُرے کے وکیل کے مطابق وہ عدالت سے استدعا کریں گے کہ ان کی موکل نے ’انسانی ہمدردی‘ کے تحت مہاجر کی مدد کی تھی، اس لیے ان کے خلاف مقدمہ ختم کیا جائے۔ اِس فرانسیسی خاتون  کو ایک اسمگلنگ نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں دیگر تین افراد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

Frankreich - Dschungel von Calais (picture alliance/NurPhoto/M. Heine)

برطانیہ جانے کے خواہش مند تارکین وطن اس بستی میں مقیم رہے

فرانسیسی خاتون کا سفر مہاجرین مخالف جماعت نیشنل فرنٹ کے لیے ہمدردیوں سے تارکین وطن کی غیرقانونی مدد تک جڑا ہے۔ انہوں نے فروری 2015ء میں ایک سوڈانی مہاجر کو جنگل کیمپ کی طرف جاتے ہوئے اپنی گاڑی میں لفٹ دی تھی۔ اس سے قبل وہ ایک عام زندگی گزار رہی تھیں اور نیشنل فرنٹ کی ووٹر تھیں۔ ان کے شوہر سرحدی محافظ تھے، جن کا انتقال سن 2010 میں سرطان کی بیماری سے ہوا۔

مگر جنگل جانے پر اور وہاں مہاجرین کی حالت دیکھنے پر ہُرے کو اس معاملے کا ایک نیا نکتہء ہائے نظر ملا۔ جنگل نامی یہ مہاجر بستی گزشتہ برس کے آخر میں ختم کر دی گئی تھی۔ تاہم اس کیمپ کے خاتمے سے قبل جب ہُرے وہاں گئیں، تو انہوں نے ہزاروں مہاجرین کو دیکھا اور فیصلہ کیا کہ انہیں برطانیہ پہنچانے میں مدد کرنا چاہیے۔

اسی دوران ہُرے کی ملاقات 37 سالہ ایرانی مہاجر مختار سے ہوئی، جس نے اس مہاجر بستی میں تارکین وطن کی حالت زار پر اپنے ہونٹ سیے ہوئے تھے اور احتجاج میں مصروف تھے۔ جب یہ دونوں پہلی بار ملے تو انہوں نے انگریزی زبان میں گفت گو کی۔ ابتدا میں سلام اور خداحافظ جیسے ابتدائی جملوں کے بعد یہ ہرے اور مختار چائے پر ملے اور یوں ان کے درمیان رفاقت گہری ہوتی چلی گئی اور پھر دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ گفت گو کے لیے یہ دونوں گوگل ٹرانسلیٹ تک کا استعمال کرتے رہے۔ مختار اپنی 76 سالہ بوڑھی والدہ اور 19 سالہ بیٹے کے ساتھ برطانیہ جانا چاہتا تھا  اور ہُرے نے اس نے مختار کو ایک ہزار یورو کی ایک کشتی خریدے میں مدد دی اور پھر اپنے دوستوں کے ساتھ اسے سمندری گزرگاہ انگلش چینل عبور کروا دیا۔