1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فرانسیسی الیکشن، پہلے مرحلے کے فاتح ماکروں اور لے پین

غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے مطابق فرانسیسی صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اعتدال پسند امیدوار ایمانوئل ماکروں اور دائیں بازو کی خاتون سیاستدان مارین لے پین نے باقی جملہ امیدواروں پر برتری حاصل کر لی ہے۔

آج اتوار کے روز فرانس میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق کل گیارہ امیدواروں میں سے اعتدال پسند صدارتی امیدوار ایمانوئل ماکروں اور نیشنل فرنٹ کی دائیں بازو کی مہاجرت مخالف خاتون سیاستدان مارین لے پین کو سب سے زیادہ انفرادی تائید حاصل ہوئی ہے۔

فرانسیسی صدارتی الیکشن میں اہم امیدوار کون کون

فرانس میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری

کیا مہاجرین انتخابات پر اثر انداز ہو رہے ہیں؟

تئیس اپریل بروز اتوار ہونے والی قومی رائے دہی میں کسی بھی امیدوار کو مطلوبہ پچاس فیصد سے زائد عوامی تائید حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اب دوسرے مرحلے کے صدارتی الیکشن میں سات مئی کو حتمی مقابلہ ماکروں اور لے پین کے مابین ہی ہو گا۔ اس انتخابی معرکے کے ایک اور اہم صدارتی امیدوار قدامت پسند فرانسوا فیوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ماکروں کو چوبیس فیصد جبکہ لے پین کو بائیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔

یورپی یونین کے رکن اور جرمنی کے ہمسایہ ملک فرانس میں صدارتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں رائے دہی کے لیے آج ملک کے 47 ملین کے قریب رجسٹرڈ ووٹروں کو اپنا ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس الیکشن کے لیے قریب 70 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جہاں سکیورٹی فرائض کی انجام دہی کے لیے قریب 50 ہزار پولیس اہلکار تعینات تھے۔ اسی مقصد کے لیے قریب سات ہزار فوجی بھی اضافی خدمات انجام دے رہے تھے۔

مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہو کر شام آٹھ بجے تک جاری رہنے والی اس رائے دہی میں عوام کو صدارتی عہدے کے لیے کل 11 امیدواروں میں سے کسی نہ کسی کی حمایت تو کرنا ہی تھی لیکن جیسا کہ تبصرہ نگاروں کے اندازے بھی تھے، ان انتخابات میں آئندہ اور حتمی مقابلہ اب لے پین اور ماکروں کے مابین ہی ہو گا۔

انتہائی دائیں بازو کی خاتون سیاستدان لے پین کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی تعریف کر چکے ہیں جبکہ 39 سالہ سابقہ سرمایہ کاری بینکار ماکروں ایک لبرل سیاستدان ہیں، جنہیں ان کی انتخابی مہم کے دوران بھی ووٹروں کی غیر متوقع حد تک زیادہ حمایت حاصل ہوئی تھی۔

DW.COM