1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فحش تصاویر کا مقدمہ، خاتون صحافی بری

زمبیا کی ایک عدالت نے معروف ملکی خاتون صحافی چانسا کبویلا کو بری کرتے ہوئے کہا ہے ان کی طرف سے تقسیم کی گئی تصاویر کسی طرح سے بھی اخلاق باختہ نہیں ہیں۔ چانسا نے عدالتی فیصلے کو ملک میں آزادی صحافت کی جیت سے تعبیر کیا ہے۔

default

زمبیا کے صدر روفیہ بانڈہ

انتیس سالہ خاتون صحافی نے ایک عورت کی تصاویر حکام کو ارسال کی تھیں جس میں وہ ہسپتال کے باہر کار پارکنگ میں ایک بچے کو جنم دے رہی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب طبی عملہ ہڑتال پر تھا اور زچگی کے دوران نو مولود بچہ مر گیا۔ زمبیا کے صدر روفیہ بانڈہ نے ان تصاویر کو فُحش قرار دیا تھا۔ اگر خاتون صحافی کے خلاف فیصلہ سنایا جاتا تو انہیں پانچ سال کی قید ہوسکتی تھی۔

بری ہونے کے بعد خاتون صحافی نے کہا کہ یہ تصاویر حکام کو اِس لئے ارسال کی گئی تھیں تاکہ ان کے علم میں لایا جاسکے کہ طبی عملے کی ہڑتال کے نتیجے میں ہسپتال میں حالات کتنے ابتر ہیں۔

زمبیا میں ’دی پوسٹ‘ نامی ایک نجی اخبار گروپ کی مالک اس خاتون صحافی چانسا نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ وہ بری کر دی جائیں گی۔

ملک میں خواتین کی ناگفتہ بہ صورتحال کی تصویر کشی کی جانے والی اُن تصاویر کے بارے میں لوساکا کی عدالت کے جج نے کہا کہ یہ تصاویر کسی طرح بھی اخلاقی گراوٹ کا باعث نہیں ہیں، اس لئے چانسا کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔

چانسا نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا یہ تصویریں اخبار میں شائع نہیں کی گئیں تاہم ان تصاویر کو اعلیٰ سیاسی شخصیات، انسانی حقوق کے اداروں اور ایسے ہی دیگر بااثر افراد کو ارسال کیں تاکہ وہ اپنے اثرو روسوخ سے ہسپتال میں ایک مہینے سےجاری ہڑتال ختم کروائیں۔ اطلاعات کےمطابق یہ تصاوریر، حاملہ خاتون کے شوہر نے زچگی کے عمل کی دوران بنائیں تھی اور پھر انہیں دی پوسٹ اخبار کے دے دی تھی۔

گزشتہ سال اگست میں زمبیا کےسابق صدر لے وی موانا واسا کے انتقال کے بعد اکتوبر میں کرائے گئے انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار پانے والے صدر روفیہ بانڈہ کے ملکی ذرائع ابلاغ ، بالخصوص دی پوسٹ کے ساتھ کوئی اچھے تعلقات نہیں ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اخبار حکومت کے خلاف بے بنیاد خبریں شائع کر کے حکومت کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM