1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فحش تصاویر، پیغامات بھیجنے کا الزام: ماں بیٹی کی ضمانت منظور

پاکستانی سپریم کورٹ نے ایک ایسی خاتون اور اس کی نوجوان بیٹی کی ضمانت منظور کر لی ہے، جن پر ایک دوسری خاتون کو فحش تصاویر اور پیغامات بھیجنے کا الزام ہے۔ وکیل صفائی کے مطابق یہ الزام مبینہ طور پر انتقاماﹰ لگایا گیا تھا۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات نو جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس مقدمے کی دونوں ملزم خواتین آپس میں ماں بیٹی ہیں، جن میں سے بیٹی کی عمر صرف 19 برس ہے۔

اسلام آباد کے قریبی شہر راولپنڈی کی رہنے والی شازیہ بیگم اور اس کی بیٹی ماریہ ناز کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے اہلکاروں نے ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے شازیہ کی بہن اور ماریہ کی خالہ کو موبائل فون پر فحش تصاویر اور پیغامات بھجوائے تھے۔ ایف آئی اے نے یہ مقدمہ بھی ماریہ ناز کی اسی خالہ کی درخواست پر دائر کیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق اس مقدمے میں وکیل صفائی ذوالفقار بھٹہ نے بتایا کہ شازیہ بیگم اور ماریہ ناز گزشتہ دو ماہ سے جیل میں تھیں اور آج ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ان دونوں کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔

ذوالفقار بھٹہ نے بتایا، ’’عدالت نے ان دونوں ماں بیٹی کی ضمانت اس لیے منظور کر لی کہ استغاثہ نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ تفتیشی ماہرین کو ان دونوں خواتین کے موبائل ٹیلی فونوں سے کوئی ایسا فحش مواد نہیں ملا تھا، جو ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تصدیق کر سکتا ہو۔‘‘ وکیل صفائی کے اس بیان کی بعد ازاں عدالتی اہلکاروں نے بھی تصدیق کر دی۔

وکیل صفائی کے مطابق اس مقدمے میں دونوں خواتین کو اس لیے ’جعلسازی سے پھنسایا گیا‘ تھا کہ مدعی خاتون ان ملزم خواتین کے خاندان پر دباؤ ڈالنا چاہتی تھی۔ ذوالفقار بھٹہ نے مزید بتایا، ’’ماریہ اور اس کی خالہ کے خاندانوں کے مابین پہلے ہی جائیداد کے ایک تنازعے پر ایک سول مقدمہ زیر سماعت ہے۔ فحش تصاویر اور پیغامات بھیجنے کے الزام میں ایک نئے مقدمے میں پھنسا کر مدعی خاتون دونوں ملزم خواتین کو جائیداد سے متعلق مقدمے سے دستبردار ہو جانے پر مجبور کرنا چاہتی تھی۔‘‘

DW.COM