1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فتح پور: فرقہ پرستی کی فضا میں مختلف کیسے

فتح پور کا یہ قبرستان پہلی نظر میں ایک عام سا قبرستان ہی دکھائی دیتا ہے۔ کچھ قبریں کتبوں کے ساتھ ہیں اور کئی بے نام۔ شہر خموشاں کے ان باسیوں میں مذہب اسلام کے ماننے والے بھی ہیں اور مسیحی بھی۔

پاکستانی صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے جنوب میں شہر قصور سے پہلو تہی کرتی جنوبی سڑک پر دیپال پور کی جانب جائیں تو اکہتر کلومیٹر پر ایک تختی فتح پور نامی مسلم اکثریتی گاؤں کا اشارہ دیتی ہے۔ چار ہزار آبادی کے اس گاؤں میں اٹہتر فی صد مسلمان بستے ہیں، جو زمین دار ہیں باقی مسیحی ہیں، جو ان زمینوں پر کام کرتے ہیں۔ یہاں مسلمان اور مسیحی انتقال کر جانے والے افراد کی ایک ہی جگہ آخری رسومات ادا کرتے اور انہیں دفن بھی مشترکہ قبرستان میں کیا جاتا ہے۔

ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ ایک ہی وقت میں مسلمان اور مسیحی جنازے دفنانے کو لائے گئے’’ باہمی رضا مندی سے ہم نے مسلمانوں سے کہا کہ ان کی نماز جنازہ مختصر ہے سو وہ پہلے ادا کرلیں، ہماری رسومات میں زیادہ وقت لگتا ہے، ہم بعد میں ادا کر لیں گے۔‘‘ یہ کہنا ہے برکت جمشید کا، جو فتح پور میں سینٹ جیمز چرچ کے پہلو میں اسی نام سے ایک سکول چلاتے ہیں۔

Pakistan Fatehpur Dorf Interreligiöse Gemeinschaft

’’ہمارا کھانا پینا اکٹھا ہے تو ہمارا مرنا بھی اکٹھا رہ سکتا ہے۔‘‘

چرچ اور سکول دو کنال سے زائد زمین پر تعمیر کیے گئے ہیں، جو اس گاؤں کے مالک مسلم خاندان کے ایک زمین دار نے انیس سو اکتیس میں عطیہ کی تھی۔ اسی خاندان کے بزرگ فتح خان کے نام پر ہی یہ گاؤں ہے۔ جمشید کے مطابق مسیحیوں کو پانچ پانچ مرلے کے ان گھروں کی ملکیت بھی دی گئی ہے جن میں وہ رہتے ہیں۔

ملک اصغر عظیم خان اسی مسلم خاندان کے فرد ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں مگرسماجی خدمت کرتے ہیں۔ غریب افراد کو صحت کی سہولیات بہم پہنچاتے ہیں یا ان تک رسائی میں سہولت کار بنتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فیس نہیں لیتے اور نہ ہی ان کا خاندان انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ’’ کئی نسلوں سے ہمارا رہن سہن اکٹھا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے مسیحیوں کو رہنے کے لیے زمین دی۔ ہم مل کر ایک دوسرے کے کام آتے رہے ہیں۔ میرے والد صاحب نمبر دار تھے۔ انہوں نے بھی ہمیں بتایا کہ یہ مسیحیوں کا حق ہے۔ ہماری قبروں کے درمیان بھی کوئی دیوار نہیں۔ ہماری کوشش اور ہماری دعا ہے کہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں اکٹھے ہی رہیں۔‘‘

وہ باریش ہیں اور گاؤں کی مسجد میں وعظ کے علاوہ جمعے کا خطبہ بھی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق ان کو ملنے چاہییں۔’’یہ بھی اللہ کے ایک نبی کے ماننے والے ہیں، ہمارا مذہب بھی ان پر ایمان کی تلقین کرتا ہے۔ اس لیے ان کا احترام ہم پر لازم ہے۔‘‘ ملک اصغر کے مطابق اگر گاؤں کے مسیحیوں کے درمیان بھی کوئی اختلاف ہوتا ہے تو وہ ان کی اجازت سے اسے دور کرتے ہیں۔ انہی کے ایک رشتے دار خضر اکبر خان کا کہنا ہے کہ یہ ساجھے داری صرف قبرستان ہی میں نہیں بلکہ عام زندگی میں بھی ہے۔ مرگ پر افسوس کا اظہار، بیاہ شادی، عید، کرسمس پر مبارک۔ ہم نے تو فرق رکھا ہی نہیں۔

گاؤں کے چرچ کے پاسٹر ہدایت انجم ان کی بات کی تصدیق کرتے ہیں۔’’ہم یہاں ایسے رہ رہے ہیں جیسے ایک ہی خاندان ہو، نہ کوئی لڑائی نہ کوئی جھگڑا۔ تہواروں پر ایک دوسرے کو تحفے دیتے ہیں، دعوت کھلاتے ہیں۔‘‘ پوچھا گیا کہ کبھی قبرستان جدا کرنے کا خیال نہیں آیا؟ توان کا کہنا تھا ’’ہمارا کھانا پینا اکٹھا ہے تو ہمارا مرنا بھی اکٹھا رہ سکتا ہے۔‘‘

Pakistan Fatehpur Dorf Interreligiöse Gemeinschaft

چرچ اور سکول دو کنال سے زائد زمین پر تعمیر کیے گئے ہیں، جو اس گاؤں کے مالک مسلم خاندان کے ایک زمین دار نے انیس سو اکتیس میں عطیہ کی تھی

پچاس سالہ انور مسیح کی پیدائش اسی گاؤں میں ہوئی تھی اور وہ ابھی بھی یہیں رہتے ہیں۔ وہ اسی گاؤں کے ایک کھیت میں مزدوری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مزدوری جبری نہیں۔ کیوں کہ برکت جمشید کی طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہیں اور کام کرتے ہیں۔ گاؤں کا سکول برکت جمشید کی کوششوں کا ثمر ہے۔ گئے دنوں میں وہ بھٹوں پر کام کرتے تھے اور بھٹا مزدوروں کی تحریک کے متحرک کارکن تھے۔ آج کل غیر سرکاری تنظیم پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔

امجد انجم مسیحی ہیں اور اسی سکول میں پڑھاتے ہیں۔ انہی کے ایک ساتھی استاد مسلمان ہیں۔ سکول کے کل ایک سو بیس طلبا و طالبات دونوں مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر امجد انجم کے مطابق یہ چیزیں کسی قسم کے امتیاز کا باعث نہیں بنتیں۔ ’’اکٹھے پڑھتے ہیں، لنچ اکٹھا کرتے ہیں۔ ایک ہی جگہ سے پانی پیتے ہیں اور اکٹھے کھیلتے ہیں۔‘‘

یہ بات حوصلہ افزا ہے حسین نقی کے لیے۔ وہ جوائنٹ ڈائریکٹر ہیں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے جو ایسے امتیازات کے خاتمے کے لیے کوشاں ایک تنظیم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضلع قصور کے اس گاؤں میں ایسا بھائی چارا ہو سکتا ہے تو یہ ملک میں ہر جگہ ممکن ہے۔