فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کا مخالف کون؟ | حالات حاضرہ | DW | 11.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کا مخالف کون؟

پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایف سی آر کے خاتمے کا بل گیارہ دسمبر کو پیش کیا جانا تھا لیکن اسے راتوں رات ایجنڈے سے خارج کر دیا گیا۔ جب قومی اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو فاٹا ترمیمی بل ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں تھا۔

اس بل کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دائرہء کار تک رسائی دینا اور ایف سی آر قانون کا خاتمہ کرنا ہے۔ ترمیمی بل کو ایجنڈے سے نکالنے کے بعد اپوزیشن اراکین اسمبلی اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاجاﹰ بیٹھے رہے اور پھر واک آوٹ بھی کیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے  بل کو تیکنیکی وجوہات کی بنا پر ایجنڈے سے نکالا گیا۔

وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کے مطابق بل کو ایجنڈے سے نکالنا وزیر پارلیمانی اُمور کا اختیار ہے۔ قبائلی علاقہ جات میں سات ایجنسیز اور چھ ایف آرز شامِل ہیں۔ ایف سی آر یعنی فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز کچھ ضابطوں کا مجموعہ ہے، جو انگریزوں نے1848ء میں فاٹامیں نافذ کیا تھا۔ پاکستانی آئین کے آرٹیکل247 کے مطابق فاٹا اور شمالی علاقہ جات کسی بھی صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے اختیار سے باہر ہیں۔ یہ علاقے براہ راست صدارتی احکامات کے پابند ہیں۔

فاٹا اصلاحات، علاقائی اور انتظامی انضمام میں سست رفتار پیش رفت

سمرین وزیر فاٹا حقوق کے لئے بنائے گئے نوجوانوں کے جرگے کی ممبر ہیں۔ سمرین کا تعلق نارتھ وزیرستان ایجنسی سے ہے۔ اُنہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’فاٹا کے عوام خاص کر خواتین کی زندگی میں تبدیلی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ کہ خواتین کے یہ بنیادی حقوق ایف سی آر میں شامِل نہیں۔ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام سے قبائلی خواتین کو وہ تمام سہولیات آسانی سے مُیسر ہو سکتی ہیں جو پاکستان کی دیگر خواتین کو حاصل ہے۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ اِس قانون کے تِحت قبائلیوں کو وکیل، دلیل اور اپیل ایسی حقوق حاصل نہیں اور یہ بھی کہ تمام اختیارات فرد واحد یعنی پولیٹیکل ایجنٹ تک ہی محدود ہیں۔

 Pakistan - Proteste gegen FCR Gesetz in Peschawar (Privat)

سمرین وزیر فاٹا حقوق کے لئے بنائے گئے نوجوانوں کے جرگے کی ممبر ہیں

ملک صلاح الدین کوکی خیل آفریدی قبیلے کے ایک اہم قبائلی ملک اور رہنما ہیں۔ صلاح الدین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ قبائلی روایات میں ہی قبائلی عوام کی بقاء  ہے اور اگر اِس میں تبدیلی لائی گئی تو وہ اِحتجاج کریں گے، ’’اگر ہماری بات نہیں مانی گئی تو ہم ہمسایہ ملک ہجرت کریں گے لیکن کسی صورت خیبر پختونخوا میں ضم نہیں ہوں گے کیونکہ خیبر پختونخوا میں کونسی شہد اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں یا غریب کو سستا اور فوری انصاف میسر ہیں۔‘‘

صلاح الدین کہتے ہیں کہ قبائلیوں کا جرگہ سسٹم فوری اور سستا انصاف فراہم کرتا ہے اور یہی قانون ہی علاقے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام میں معاون ہو سکتا ہے۔

فاٹا ریفارمز میں نظر انداز کیے جانے پر خواتین کے تحفظات

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے ایف سی آر کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ قانونی، معاشی، انتظامی اورسیکورٹی حوالے سے پیش رفت کے بعد فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ملک شہاب الدین باجوڑ ایجنسی سے قومی اسمبلی کے ممبر ہے۔ شہاب کا تعلق حکمران جماعت مُسلم لیگ ن سے ہے اور وہ فاٹا اِصلاحات کمیٹی کا اہم رکن بھی ہیں۔ شہاب الدین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہم اپنا اجلاس بلائیں گے اور بھر پور  احتجاج کریں گے کیونکہ اس بل کو بغیر کسی کے صلاح و مشورے کے نکال دیا گیا۔‘‘

فاٹا اصلاحات کے حامی عوام اور اراکین اِسمبلی کا مؤقف ہے کہ حکومت صرف جمعیت عُلماء اِسلام ف کی خوشنودی اور مدد کے لیے بِل کی منظوری میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔

فاٹا اصلاحات، قبائلی خواتین کو کیا ملا؟

جلیل جان جمعیت علماء اسلام ف خیبر پختونخوا کے ترجمان ہیں۔ جلیل جان نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے ہر ایجنسی اور ایف آر میں لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے ان کی رائے جانی ہیں۔ تقریباﹰ 80 فیصد قبائلی انضمام کے مخالف ہیں۔‘‘

جماعت اسلامی نے خیبر سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع کیا ہے، جسے فاٹا مرجر (اِنضمامِ فاٹا) کا نام دیا گیا ہے۔ جب بِل کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے سے خارِج کیا جا رہا تھا تو یہ لانگ مارچ دوسرے دن کے اختتام تک جہانگیرہ کے علاقے تک پہنچ چکا تھا۔ عبدالواسع جماعت اِسلامی خیبر پختونخوا کے ترجمان نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہم کل اسلام آباد میں دھرنا دیں گے اور حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنائے۔ ہماری ریلی میں سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں لوگوں کا مارچ اس بات کا ثبوت ہے کہ قبائلی عوام خیبر پختونخوا کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔‘‘

ڈی ڈبلیو نے جب لانگ مارچ کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں اور ڈیوٹی پر موجود ٹریفک پولیس سے لانگ مارچ میں شریک افراد کی تعداد کے بارے میں پوچھا تو سب نے بتایا کہ لانگ مارچ میں شرکاء کی تعداد بمشکل 800 سے 1000 کے درمیان ہے۔

یاد رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دو اہم اتحادی جمعیت علمائے اسلام اور پشونخوا ملی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی کی جانب سے فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خیبربختونخوا میں انضمام کی مخالفت کی گئی ہے۔

DW.COM