1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فان گوخ کی پینٹگ تا حال لاپتہ

مصر کی پولیس نے شک کے شبے میں دو اطالوی افراد کو حراست میں لیا ضرور تھا لیکن وہ قاہرہ کے ایک عجائب گھر سے ڈچ مصور فان گوخ کی پینٹنگ کے چور نہیں تھے۔ پینٹنگ تاحال لاپتہ ہے۔

default

فان گوخ کی بنائی ہوئی ذاتی پورٹریٹ

مصر کے وزیر ثقافت فاروق حسنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے غلط اطلاع کی بنیاد پر کہا تھا کہ فان گوخ کی پینٹنگ کے چور حراست میں لے لئے گئے ہیں۔ مصری پولیس نے ولندیزی مصور ونسنٹ ولیم فان گوخ کے ایک شاہکار کو عجائب گھر سے چوری کرنے کے شبے میں دو اطالوی باشندوں کو ایئرپورٹ پر دھر لیا تھا۔ ان کی تلاشی کے بعد معلوم ہوا کے ان کے پاس ایک عام سا کینوس کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔

قاہرہ کےمحمود خلیل میوزیم سے فان گوخ کے شاہکار کو ہفتے کے روز علی الصبح چرایا گیا۔ گزشتہ روز ہی پولیس نے اس تصویر کو دوبارہ برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا، جس کے بعد مصر کے وزیرثقافت نے چوری کے شبے میں دو اطالوی باشندوں کو گرفتار کئے جانے کی تصدیق کی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پینٹنگ ابھی تک پولیس ڈھونڈ نہیں پائی ہے۔ ولندیزی مصور کی اس پینٹنگ کی مالیت پچاس ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

قاہرہ کے ایئر پورٹ پر گرفتار ہونے والے اطالوی باشندوں میں ایک خاتون اور ایک مرد شامل تھا۔ ان افراد کے ناموں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہے۔ یہ نادر پینٹنگ قاہرہ کے محمود خلیل میوزیم سے چرائی گئی ہے۔

Deutschland Niederlande Wissenschaftler machen verborgenes Vincent van Gogh Bild sichtbar

ہالینڈ میں فان گوخ کی تراشیدہ تصویر

عجائب گھر میں جس فریم کے اندر یہ تصویر لگی ہوئی تھی اس کو کاٹ کر پینٹنگ کو نکالا گیا ہےا۔ محمود خلیل میوزیم قاہرہ کے فیشن ایبل علاقے دوکی میں دریائے نیل کے کنارے پر قائم ہے۔

ماہرین کے مطابق چوروں کو گرفتار کرنے میں بظاہر آسانی ہونی چاہیے تھی کیونکہ ہفتہ کے دن میوزیم زیادہ رش نہیں تھا اور صرف دس غیر ملکی سیاح ہی عجائب گھر میں سجے بین الاقوامی شہرت کے شہ پارے کو دیکھنے گئے تھے۔ چوری کی اطلاع ملنے پر ابتدائی چھان بین کے بعد سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج بھی پولیس کو دستیاب ہے۔ محمود خلیل عجائب گھر سے گزشتہ سال بھی نو قیمتی مصوری کے نمونے چوری ہوئے تھے، جنہیں بعد میں برآمد کر لیا گیا تھا۔

جواں مرگ ونسنٹ ولیم فان گوخ انیسویں صدی کے عظیم مصوروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی مصورانہ صلاحیتوں نے بیسویں صدی کے مصوروں پر براہ راست اثر ڈالا تھا۔ وہ کئی آشوب میں مبتلا تھے۔ انہی ذہنی عارضوں کی وجہ سے انہوں نے ایک دن اپنی جان لے لی تھی۔ وہ کرب و یاسیت کے انتہائی گہرے لمحات میں صرف 37 سال کی عمر میں موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ ان کی موت انتہائی نا گہانی تصور کی جاتی ہے۔ اس چھوٹی سے عمر میں وہ اپنے ورثے میں بائیس سو آرٹ کے نمونے چھوڑ گئے تھے۔ تنہائی کا کرب اور اندر کی ذات کا دکھ ان کی پینٹنگ میں بھی نمایاں تھا۔ فان گوخ کو پوسٹ امپریشنزم طرز مصوری کا ایک بڑا مصور خیال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس