1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

فاسٹ فوڈ کے اشتہارات بچوں کے لیے نقصان دہ

فاسٹ فوڈ کمرشلز دیکھ کر بچوں میں جنک فوڈ کی طرف رغبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

default

فاسٹ فوڈ کا استعمال دنیا بھر میں بڑھتا جا رہا ہے

آرکائیوز آف پیڈیاٹرکس اینڈ ایڈولیسنٹ میڈیسن میں چھپنے والی ایک مطالعاتی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں گرچہ ٹیلی وژن پر شوگر اور چکنائی سے بھر پور اشیائے خورد و نوش کے اشتہارات میں کسی حد تک کمی آئی ہے تاہم اب بھی کھانے پینے کی زیادہ تر ایسی اشیاء کے اشتہارات ٹیلی وژن پر دکھائے جاتے ہیں، جو بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس رپوٹ کے مطابق امریکہ میں چھ سال پہلے کے مقابلے میں 2009ء میں ٹیلی وژن پر دکھائے جانے والے فاسٹ فوڈ کمرشلز کی تعداد کہیں زیادہ رہی۔

فاسٹ فوڈ کے ذرائع ابلاغ میں نظر آنے والے اشتہارات سے متعلق اس نئی تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اشیائے خورد و نوش تیار کرنے والی 17 کمپنیوں نے مشرکہ طور پر ایک پروگرام کے تحت ایسی اشیاء کے غذائی اجزاء کا معیار بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے، جن کے اشتہارات خاص طور سے 12 سال سے کم عمر بچوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں کوکا کولا، کرافٹ فوڈز، جنرل ملز اور کیلوگ جیسی مشہور کمپنیاں شامل ہیں۔

Pommes Frites

تلے ہوئے کھانوں کے ذریعے چکنائی خون کے شریانوں میں جمع ہونے لگتی ہے

اُدھر شکاگو کی یونیورسٹی آف اِلینوئے کی ایک ریسرچر لیزا پُول، جنہوں نے اشیائے خورد و نوش کے اشتہارات سے متعلق اس نئی تحقیق میں شامل ٹیم کی سربراہی کی، کا کہنا ہے، ’مجموعی طور پر غیر صحت مند اشیاء کی تشہیر میں کچھ کمی آئی ہے، جو کہ ایک اچھی خبر ہے تاہم دوسری جانب فاسٹ فوڈ کے اشتہارات میں بہت زیادہ اضافہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمر میں موٹاپے کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد کی ذمہ داری کس حد تک غیر صحت مند اشیائے خورد و نوش کے اشتہارات پرعائد ہوتی ہے، یہ کہنا تو مشکل ہے تاہم یہ امر اپنی جگہ مسلم ہے اور اس کے شواہد بھی پائے جاتے ہیں کہ فاسٹ فوڈ کمرشلز دیکھ کر بچوں میں جنک فوڈ کی طرف رغبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

Symbolbild EU warnt vor Übergewicht bei Kindern

یورپی یونین کے ممالک میں بھی بچوں کے موٹاپے کے خلاف مہم شروع کی گئی ہے

امریکی محققہ لیزا پُول کا کہنا ہے کہ اشیائے خورد و نوش کے اشتہارات سے متعلق اس تحقیق کے نتائج نے بچوں کے ٹیلی وژن پروگراموں کے دوران کی جانے والی فوڈ مارکیٹنگ میں سیلف ریگو لیشن یا خود احتسابی کے بارے میں چند بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔

’کونسل آف بیٹر بزنس بیورو‘ کے ایک ترجمان لی پیلر کے مطابق اس تحقیق کے دوران ریسرچرز نے فاسٹ فوڈ اشتہارات کی تعداد پر غور کیا، نہ کہ اُن میں شامل اشیاء کے معیار پر۔ لی کا کہنا ہے کہ برگر کنگ اور میکڈانلڈز نے بچوں کے کھانوں اور ان کے اشتہارات کا معیار بہتر بنایا ہے۔ اب ان دونوں کمپنیوں نے بچوں کے مینیو میں فرنچ فرائز اور سوڈا کے بجائے ایپل سلائیسز اور کم چکنائی والا دودھ شامل کیا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس