1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فارک کے رہنما کی ہلاکت تنظیم کے لیے بڑا دھچکا

کولمبیا کے گھنے جنگلوں میں بائیں بازو کی گوریلا تنظیم FARC کے رہنما الفونسو کانو کی سرکاری فوج کی ایک کارروائی میں ہلاکت سے تنظیم کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے تاہم اس کے باغیوں پر پڑنے والے اثرات ابھی دیکھنا باقی ہیں۔

default

الفونسو کانو

کولمبیا کے صدر خوآن مانوئل سانتوس نے فارک کے رہنما کو ہلاک کرنے والی کارروائی میں حصہ لینے والے فوجی اہلکاروں کی تعریف کی اور باغیوں پر زور دیا کہ وہ ہتھیار ڈال کر حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں۔

دارالحکومت بگوٹا سے 650 کلومیٹر دور پوپاین شہر میں خطاب کرتے ہوئے صدر سانتوس نے کہا کہ باغیوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے گئے تھے۔

Kolumbien Juan Manuel Santos USA Freihandelsabkommen FTA

کولمبیا کے صدر خوآن مانوئل سانتوس نے باغیوں پر زور دیا کہ وہ ہتھیار ڈال کر حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں

یہ تازہ ترین کارروائی حکومت کی باغیوں کے خلاف کامیاب فوجی کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ بائیں بازو کے باغی رہنما الفونسو کانو نے بگوٹا کی نیشنل یونیورسٹی سے قانون اور بشریات کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی اور انہوں نے مارچ 2008ء میں تنظیم کے سابق رہنما کے انتقال کے بعد تنظیم کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ انہوں نے 1990ء کے عشرے میں وینزویلا اور میکسیکو میں ہونے والے امن مذاکرات میں بھی حصہ لیا تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ الفونسو کے بعد تنظیم کی سربراہی کون سنبھالے گا۔ ایک خود مختار سکیورٹی تجزیہ کار الفریڈو رینجل نے کہا، ’’کانو کی ٹکر کا کوئی اور رہنما موجود نہیں اور ان کی جگہ لینا دشوار ہو گا۔‘‘ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ قلیل مدت میں قیادت کا فقدان ہو گا مگر اس سے تنظیم فوری طور پر ختم نہیں ہو جائے گی۔

Bewaffnete FARC-Rebellen

آٹھ ہزار کے قریب بائیں بازو کے باغیوں پر مشتمل فارک تنظیم 1964ء سے حکومت کے خلاف برسر پیکار ہے

لگ بھگ 8,000 اراکین پر مشتمل یہ تنظیم 1964ء سے حکومت کے خلاف برسر پیکار ہے۔ 1980ء کی دہائی کے وسطی سالوں میں فارک نے اپنے قیدیوں کو رہا کرانے کے لیے فوجی اہلکاروں کو اغوا کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور 1990ء کی دہائی میں اس نے عام شہریوں اور سیاست دانوں کو بھی اغوا کا ہدف بنانا شروع کر دیا تھا۔

فارک اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے اغوا برائے تاوان کے علاوہ منشیات کی اسمگلنگ کا بھی سہارا لیتی ہے۔ حالیہ برسوں میں فارک کے خلاف امریکہ کے کولمبیا حکومت کے ساتھ تعاون کی بدولت تنظیم کے خلاف متعدد کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM