1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فارک باغیوں کے ساتھ  امن معاہدہ ’کولمبیا میں تاریخ رقم‘

کولمبیا کی حکومت اور فارک باغیوں کے مابین طے پانے والے امن معاہدے پر اب عمل درآمد ہو سکے گا۔ سینیٹ کے بعد اب پارلیمان نے بھی اس کی توثیق کر دی ہے۔ دو ماہ قبل پہلے امن معاہدے کو عوام نے ایک ریفرنڈم میں رد کر دیا تھا۔

کولمبیا کی پارلیمان نے فارک باغیوں کے ساتھ اس نئے امن معاہدے کو متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے حق میں ایک سو تیس ووٹ پڑے جبکہ کسی بھی رکن نے اس مخالفت نہیں کی۔ اس سے قبل سینیٹ میں ہونے والی رائے شماری میں بھی اس امن معاہدے کے خلاف کوئی ووٹ  نہیں ڈالا گیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ رہی کہ اس امن معاہدے کی ناقد ملک کی قدامت پسند حزب اختلاف نے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اس معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی لاطینی امریکا کا سب سے پرانا یعنی پانچ دہائیوں سے زائد کے عرصے سے جاری مسلح تنازعہ باقاعدہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے فارک باغیوں کو ڈیڑھ سو دنوں یعنی تقریباً پانچ ماہ کے دوران غیر مسلح ہونا ہو گا اور اس کے بعد وہ ایک سیاسی جماعت بنائیں گے۔ فارک کی جانب سے پھینکے جانے والے ہتھیاروں کو پگھلا کر تین جنگی یادگاریں تعمیر کی جائیں گی۔

فارک باغیوں کے بینک کھاتے بھی ممنجمد کر دیے جائیں گے اور منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم سے اس جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور متاثرہ افراد کو زر تلافی ادا کی جائے گی۔ اس معاہدے کی  منظوری کے بعد ایک خصوصی عدالت بھی تشکیل دی جائے گی، جو جرائم کی تحقیقات کرے گی۔ اس کے علاوہ فارک باغیوں کو ماہانہ 650 ڈالر کے قریب پینشن بھی دی جائے گی اور ملکی فوجی اہلکار ان کی نگرانی بھی کریں گے۔ فارک باغیوں کو اس بات کا بھی پابندی بنایا گیا ہے کہ وہ منشیات سے ہونے والی اپنی آمدنی کی تمام تفصیلات عام کریں گے۔

کولمبیا کے صدر خوآن مانوئیل سانتوس نے اس پیش رفت کو ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے رائے شماری سے قبل ارکان کانگریس سے اس معاہدے کی توثیق کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ فوج اور بائیں بازو کی اس جنگجو تنظیم کے مابین یہ معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ انتیس اگست کو یہ معاہدہ طے پایا تھا اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات میں دو فارک باغی اور چند مقامی سرگرم افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔