1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فائر بندی مسلے کا حل نہیں : روس

روس نے کہا ہے کہ جب تک جارجیا کی افواج جنوبی اوسیتیا سے نہیں نکلتیں اس مسلے کا حل ممکن نہیں ہے۔ دریں اثنا روسی وزیر اعظم پوتین نے جورجیا پر نسل کشی پر الزام کرتے ہوئے باقاعدہ تحقیقات کروانے پر زور دیا ہے۔

default

روسی صدر دمتری میدوی ایدف

جورجیا کی طرف سے فائر بندی پر زور دینے کے باوجود جنوبی اوسیتیا کے تنازعہ پر ہونے والی لڑائی میں شدت آتی جا رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق روسی فضائیہ نے شمالی اوسیتیا کے نزدیک ہی گوری نامی شہر میں جارجیائی فوجی اڈوں پر بمباری کی ہے۔ روس نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے جنوبی اوسیتیا کے دارلحکومت سخِنوالی کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ بہرحال ابھی تک اس بارے میں کسی آزاد زریعے سے خبر موصول نہیں ہوئی اور اس وقت صحیح صورتحال کیا ہے کوئی نہیں جانتا۔روسی حکام نے کہا ہے کہ تین دنوں سے جاری اس لڑائی میں دو ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جارجیا کے مطابق ابھی تک تقریبا دو سوافراد ہلاک ہوئے ہیں۔

Georgia's President Mikhail Saakashvili besucht ein Militärkrankenhaus

جارجیا کے صدر میخائل شاکاشویلی روسی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہونے والے ایک شہری سے مل رہے ہیں

جارجیا کے صدر میخائل شاکاشویلی نے روس پر جنگی جرائم کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے روسی فضائیہ شورش زدہ علاقے سے ہزاروں کلو میٹر دور علاقوں میں بمباری کی ہے، انہوں نے کہا روس جنوبی اوسیتیا کا بہانہ بنا کرجارجیا کو تباہ کر رہا ہے۔ شاکاشویلی نے عالمی برادری پر زور ڈالا ہے کہ بغیر کسی تاخیر کے روس کی جارحیت کو روکا جائے کیونکہ روس کی طرف سے کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں نوے فیصد ہلاک ہونے والے عام شہری ہیں۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جارجیا اور روس کے مابین جنگ بندی کے لئےتیسرے ہنگامی سیشن میں بھی کوئی حتمی مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ نیویارک میں ہونے والے اس سیشن میں روسی سفارت کار نے کہا ہے کہ اس تشدد کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب جارجیائی فوجیں جنوبی اوسیتیا سے نکل کر واپس اپنے ٹھکانوں پرنہیں چلی جاتیں۔ انہوں نے بھی جارجیا کے صدرمیخائل شاکاشویلی پرنسل کشی اور جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا۔

دریں اثنا بیجنگ اولمپیائی کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے بیجنگ آئے ہوئے امریکی صدر جورج ڈبلیو بش نے روس پر زور ڈالا ہے کہ جارجیا کے آزاد تشخص اور سرحدوں کی پاسداری کی جائے۔ صدر بش نے جارجیا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا امریکہ اس بارے میں سنجیدہ اقدامات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ روسی حملے جنوبی اوسیتیا اور شورش زدہ علاقے سے دور بھی کئے جا رہے ہیں اور اس طرح کے حملوں کے موجودہ صوتحال کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں۔

دریں اثنا پورپی یونین، نیٹو اور امریکی سفارتکاروں کا ایک مشترکہ مشن جارجیا بھیجا جا رہا ہے جو اس بحران کے خاتمے کے لئے مذاکراتی عمل شروع کر ےگا۔

Konflikt zwischen Georgien und Russland

جنوبی اوسیتیا سے لوگ ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں

دوسری طرف ششماہی بنیادوں پرتبدیل ہونے والے یورپی یونین کے موجودہ صدر دفتر کا اعزاز رکھنے والے ملک فرانس نےجارجیا اور روس کےمابین جنوبی اوسیتیا پر ہونی والی لڑائی کے خاتمے کے لئے تین نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے میں فوری طور پر فائر بندی کے مطالبے کے ساتھ کہا گیا ہے کہ روس اور جارجیا کی افواج دوبارہ اپنی اپنی پرانی جگہوں پر واپس چلی جائیں۔ فرانس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جارجیا کی آزاد مملکت اورسرحدوں پاسداری کی جائے۔ آئندے ہفتے کے آغاز پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ جنوبی اوسیتیا کی کشیدہ صورتحال پر بات چیت کا آغاز کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ معاملے پر ستائیس ممالک پر مشتمل پورپی یونین کے سمٹ بلوانے کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔

Mobilmachung in Georgien

جارجیائی افواج جنگی تیاریوں میں مصروف

گذشتہ سولہ سال سے روس کی پشت پناہی سے جارجیا سے الگ ہو کر ایک آزاد ریاست کی شکل اختیار کرنے کے لئے کوشاں خِطے جنوبی اوسیتیا کے تنازعے نے جارجیا اور روس کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ جمعرات کے روز جارجیا کے فوجی دَستوں نے اِس علاقے کو پھر سے اپنے کنٹرول میں لانے کے لئے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا اور فوراً بعد اعلان کیا کہ جنوبی اوسیتیا کے دارالحکومت سنِخوالی پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی اوسیتیا نے 1992ء میں جارجیا سے علٰیحدگی کا اعلان کر دیا تھا اور تب سے عملاً آزاد اور خود مختار ہے۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر اِسے جارجیا کا ہی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ دو بار، 1992ء میں اور 2006ء میں ہونے والے ریفرینڈمز میں جنوبی اوسیتیا کے شہریوں نے جارجیا سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دئے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اِن ریفرینڈمز کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

DW.COM