1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فائرنگ، نیپال کا سابق ولی عہد زیر حراست

آج منگل کو نیپال کے سابق ولی عہد پرنس پارس کو حراست میں لے لیا گیا۔ اُس پر الزام ہے کہ اُس نے نائب وزیر اعظم سجاتا کوئرالہ کی بیٹی اور داماد پر فائرنگ کر دی تھی۔

default

Nepal Flagge

بتایا گیا ہے کہ 38 سالہ پارس کو دارالحکومت کٹھمنڈو سے 200 کلومیٹر مغرب کی جانب پوکھرا میں حراست میں لیا گیا۔ وہاں سے اُنہیں چتوان کے مقام پر لے جایا جا رہا ہے، جہاں گزشتہ ہفتے کے روز فائرنگ کا مبینہ واقعہ پیش آیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے پارس کے خلاف غیر قانونی پستول رکھنے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کیا ہے اور اُس پر قتل کی کوشش کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ نیپال میں، جہاں بادشاہت 2008ء میں ختم کر دی گئی تھی اور ملک کو ایک جمہوریہ میں بدل دیا گیا تھا، حکومت کی جانب سے شاہی خاندان کے کسی فرد کے وارنٹ گرفتاری کئے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

میڈیا کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ پارس نے نشے کی حالت میں فائرنگ کی تھی اور وہ اُس وقت ٹائیگر ٹاپس جنگل سیاحتی مقام پر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ٹہرے ہوئے تھے۔ نیپالی وزیر اعظم مادھو کمار نے بتایا ہے، ’اِس واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں گی کیونکہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے‘۔

König Gyanendra Nepal

گیانیندرا 2001ء میں نیپال کے بادشاہ بنے تھے

بتایا گیا ہے کہ پارس نے مبینہ طور پر کٹھمنڈو سے 175 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب سیاحتی مرکز چِتون نیشنل پارک میں کوئرالہ کی بیٹی میلانی کوئرالہ اور داماد روبل چوہدری پر فائرنگ کی تھی۔ چوہدری نے بتایا، ’اُس نے اپنی گن میری پیشانی کے ساتھ لگا دی اور کہا کہ کوئرالہ فیملی نے سازش کر کے بادشاہت ختم کروائی ہے‘۔

نیپال میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد پارس 2008ء میں سنگاپور چلا گیا تھا۔ وہاں سے وہ حال ہی میں وطن واپس لوٹا تھا اور تب سے مختلف مذہبی اور سماجی سرگرمیوں میں شریک ہو رہا تھا۔

پارس اُس زمانے میں بھی اپنے جھگڑوں اور فائرنگ کے واقعات کے باعث متعدد مرتبہ شہ سُرخیوں کا موضوع بنا تھا، جب وہ ابھی ولی عہد تھا۔ اُس کے والد گیانیندرا شاہ جون 2008ء میں اُس وقت تخت سے دستبردار ہو گئے تھے، جب سڑکوں پر جاری مسلسل احتجاج نے ملک میں 240 برسوں سے چلی آ رہی بادشاہت کو ختم کر دیا تھا۔

گیانیندرا 2001ء میں نیپال کے بادشاہ بنے تھے۔ اِس سے پہلے اُن کے بھتیجے اور اُس وقت کے ولی عہد دپیندرا پر شاہی خاندان کے ایک اجتماع کے دوران فائرنگ کرنے اور 9 افراد کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اِس واقعے میں مرنے والوں میں دپیندرا کے والد اور والدہ بھی شامل تھے۔ خود دپیندرا بھی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے جبکہ اُس واقعے میں پرنس پارس کو بھی زخم آئے تھے۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس