1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فائربندی سے قبل شام میں جنگی کارروائیوں میں شدت

شام میں آج رات عالمی وقت کے مطابق دس بجے متحارب فریقوں میں جنگ بندی ہونے جا رہی ہے۔ اس فائربندی سے قبل باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید حملے جاری ہیں۔ مغربی شام میں بھی شدید لڑائی ہو رہی ہے۔

شام کے حالات و واقعات پر نگاہ رکھنے والی غیرسرکاری تنظیم سیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ آج جمعے کے روز اگر ایک طرف مغربی شامی علاقوں میں متحارب گروپوں میں شدید لڑائی ہو رہی ہے تو دوسری جانب باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شدت سے کیے جا رہے ہیں۔ آبزرویٹری کے مطابق دارالحکومت دمشق کے قریبی علاقے غوطہ کے مشرقی حصے میں مورچہ بند باغیوں پر حکومتی فوج کا توپخانہ بھاری شیلنگ کر رہا ہے اور جمعے کی دوپہر تک کم از کم دس مرتبہ فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

شام میں فائربندی کے لیے شامی حکومت اور اپوزیشن دونوں رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں۔ دمشق حکومت اور اپوزیشن نے اِس فائر بندی کے مختلف پہلووں پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دمشق حکومت یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ اور القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے جہادی گروپ النصرہ فرنٹ پر حملے جاری رکھے گی۔ اِس تناظر میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسد حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باغیوں کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھ سکتی ہے۔ اسی مناسبت سے دمشق حکومت کا مؤقف ہے کہ فائربندی کی ڈیل ناکامی سے ہمکنار ہو سکتی ہے اگر غیر ممالک سے باغیوں کے لیے امداد کے علاوہ اسلحے اور ہتھیاروں کی سپلائی جاری رہتی ہے۔

سیرین آبزرویٹری کے مطابق حما صوبے میں بھی جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب میں ہوائی حملے اور توپوں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی ہے۔ اِس صوبے میں شامی فوج ترکی کی سرحد کے قریب باغیوں کے زیرکنٹرول علاقوں پر قبضے کی کوشش میں ہے۔ اسی طرح الاذقیہ صوبے کے شمال مغرب میں بھی شامی فوج اور اُس کی اتحادی ملیشیا نے باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے آج صبح سے شدید جنگ شروع کر رکھی ہے۔

اِسی دوران امریکی صدر باراک اوباما نے شام میں جنگ بندی کی کامیابی کا بوجھ شامی حکومت اور اس کے حلیف روس پر ڈالتے ہوئے ماسکو اور دمشق کو خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کے تناظر میں ’دنیا اُن پر نظر رکھے گی‘۔ امریکی صدر کے مطابق ’آنے والے دن‘ یہ طے کرنے کے لیے بہت اہم ہوں گے کہ آیا شام میں پانچ سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کا راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اوباما نے یہ بھی کہا کہ ڈیل کو کامیاب کرنے کے لیے امریکا پرعزم ہے لیکن اسد حکومت اور اُس کے اتحادیوں پر شک کرنے کے وجوہات موجود ہیں۔

دریں اثنا ترکی ہمسایہ ملک شام میں اپنے طور کوئی زمینی کارروائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ بات ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ایک ترجمان اور قریبی ساتھی نے کہی ہے۔ ابراہیم کالِن نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ انقرہ بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات متعدد مرتبہ کہی جا چکی ہے کہ ترکی اتحادیوں کے اقدامات کے ساتھ مل کر آگے بڑھے گا۔