1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غیر ملکی پناہ گزینوں کی آمد اور یورپی یونین کی پالیسی

يورپی يونين کے امور داخلہ کے کمشنر باروت نے يونين کے رکن ملکوں پر زور ديا ہے کہ وہ يورپی يونين کی حدود کے اندر اور باہر غيرملکی پناہ گزينوں کو مستقل طور پر آباد ہونے کا موقع ديں۔

default

ہر سال ہزاروں پناہ گزين سمندر يا خشکی کے راستے مختلف جگہوں سے ہوتے ہوئے يورپی يونين کے ملکوں ميں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہيں

ہر سال ہزاروں پناہ گزين سمندر يا خشکی کے راستے مختلف جگہوں سے ہوتے ہوئے يورپی يونين کے ملکوں ميں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہيں۔ سن 2005 ميں اس وقت کے يورپی قانونی امور کے ذمہ دار اور آج اٹلی کے وزيرخارجہ فراتينی نے کہا تھا:’’ايک طرف تو انسانی تجارت کے گھناؤنے جرم اور غيرقانونی طور پر غير ملکيوں کی آمد روکنا ضروری ہے اور دوسری طرف يہ بھی ضروری ہے کہ يورپ آنے کی کوشش کرنے والے پريشان حال افراد کو يورپی امداد اور ہمدردی کا ٹھوس انداز ميں احساس دلايا جائے۔‘‘

Illegale Einwanderer auf Lampedusa

پناہ گزين اور تارکين وطن، خاص طور پر اٹلی، مالٹا اور يونان جيسے جنوبی يورپی ملکوں کے راستے يورپی يونين ميں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہيں

پناہ گزين اور تارکين وطن، خاص طور پر اٹلی، مالٹا اور يونان جيسے جنوبی يورپی ملکوں کے راستے يورپی يونين ميں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہيں۔ اس لئے ان ملکوں پر اس مسئلے کا بوجھ سب سے زيادہ ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ وہ ملک ،جو اس مسئلے سے کم متاثر ہيں، ان تارکين وطن ميں سے کچھ کو اپنے يہاں آباد کريں۔ ليکن اس کے لئے کوئی ضابطہ نہيں ہے اور کوئی ملک رضاکارانہ طور پر اس کے لئے تيار نظر نہيں آتا۔ يورپی يونين کی پناہ گزينوں کے بارے ميں پاليسی اب بھی ہر رکن ملک کا قومی معاملہ ہے۔ اگرچہ ايک يورپی سرحدی حفاظتی ايجنسی فرنٹيکس قائم ہے، ليکن وہ صرف رابطے کا کام ديتی ہے۔ اس کے پاس اپنا سازوسامان کم ہی ہے اور اس کا بجٹ بھی تھوڑا ہے۔ يورپی يونين ميں اس پر اتفاق رائے ہے کہ پناہ گزين يا تارکين وطن کو يورپی سرزمين پر قدم ہی نہ رکھنے ديا جائے۔

اس پاليسی پر تنقيد کی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کےکمشنر برائے مہاجرين گتيرس نے سن 2006 ميں يورپی يونين سے زيادہ کھلے طرزعمل کا مطالبہ کيا تھا:’’يورپ کو ان افراد کو سياسی پناہ دينے کے سلسلے ميں اپنی ذمے داری پوری کرنا چاہئے، جن کو اس کی ضرورت ہے۔ يورپ سياسی پناہ کا براعظم ہے اور اسے آئندہ بھی ايسا ہی رہنا چاہئے۔‘‘

تاہم ايسا معلوم ہوتا ہے کہ يورپی يونين، پناہ گزينوں کے بارے ميں کھلی پاليسی تو کجا،اس بارے ميں ايک اجتماعی پاليسی سے بھی ابھی تک خاصی دور ہے۔

رپورٹ: Christoph Hasselbach/ شہاب احمد صديقی

ادارت : کشور مصطفیٰ