1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غیر ملکی مجرموں کی بیدخلی، سوئس عوام نے ریفرنڈم مسترد کر دیا

اتوار 28 فروری کو سوئٹزر لینڈ میں غیرملکی مجرموں کی بیدخلی کی تجویز کو ریفرنڈم میں مسترد کر دیا گیا۔ اگر یہ ریفرنڈم منظور ہو جاتا تو معمولی نوعیت کا جرم سرزد کرنے والوں کو بھی سوئس حکام بے دخل کر سکنے کے مجاز ہو جاتے۔

سوئٹزرلینڈ کی عوام نے جرم سرزد کرنے پر غیرملکیوں کی ایک خودکار طریقے سے بیدخلی کی تجویز کو عوامی ریفرنڈم میں مسترد کر دیا ہے۔ سوئس دستور کے مطابق ووٹرز کسی بھی قانون کو اپنی رائے سے تبدیل کرنے کے مجاز ہیں۔ چھ برس قبل ایسے ہی ایک ریفرنڈم میں عوم نے حکومت کو جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات متعارف کروانے کی تجویز دی تھی۔ کل تقریباً انسٹھ فیصد عوام نے غیرملکیوں کی بیدخلی کو مسترد کر دیا ہے۔

اِس بل کے تناظر میں عوامی حمایت کی خواہشمند دائیں بازو کی سیاسی جماعت سوئس پیپلز پارٹی (SVP) نے پارلیمنٹ اور حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اُس نے ایسا مسودہٴ قانون منظور کروانے کی کوشش کی تھی جس میں کوئی سکت نہیں ہے حالانکہ گزشتہ برس مارچ میں سخت قوانین کو ریفرنڈم کے لیے پیش کرنے کو تجویز کیا گیا تھا۔ سوئس پیپلز پارٹی یورپی یونین، اسلام اور غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف اپنی سیاسی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اِس پارٹی نے سوئٹزرلینڈ سے ایسے تمام مہاجرین کو بیدخل کرنے کے مطالبے کو دستور کا حصہ بنانے کو تجویز کیا تھا، جو کسی بھی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہ چکے ہوں۔

Schweiz Volksabstimmung Anti-Ausländer-Initiative SVP

ریفرنڈم کے مخالفین ووٹنگ کے نتیجے کے بعد مسرت کا اظہار کرتے ہوئے

اِس ریفرنڈم کی مخالفت میں حکومتی اراکین کے علاوہ بڑی سیاسی جماعتیں بھی تھیں۔ ان کے خیال میں یہ تجاویز جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔ سوئس پیپلز پارٹی کے تجویز کردہ ریفرنڈم کو ابتداء میں خاصی حمایت حاصل ہوئی تھی لیکن ریفرنڈم منظور کروانے کی مہم میں یہ حمایت کمزور ہوتی چلی گئی اور انجام کار اِسے مسترد کر دیا گیا۔ یہ ریفرنڈم ایسے موقع پر کروایا گیا جب یورپی یونین اپنے ساحلوں تک پہنچنے والے غیرملکی تارکینِ وطن کی حوصلہ شکنی کے لیے سخت تادیبی اقدامات کو متعارف کروانے کی منصوبہ بندی کر چکی ہے۔

اتوار کے روز ہونے والے ریفرنڈم کے خلاف سوئٹزرلینڈ کے پچاس ہزار سے زائد افراد نے ایک اپیل پر دستخط کیے تھے اور مطالبہ کیا تھا کہ حکومتِ وقت اور پارلیمنٹ ریفرنڈم کے لیے تجویز کی گئی ترامیم کی منظوری کے عمل کا حصہ قطعاً نہ بنیں۔ اگر کل اتوار کے روز پیش کیے گئے دستوری پیکج کو منظور کر لیا جاتا تو غیر ملکی افراد کی بیدخلی کے عمل میں حیران کن تیزی پیدا ہو جاتی کیونکہ معمولی جرم کا ارتکاب کرنے پر بھی غیرملکیوں کو ڈی پورٹ کر دینے پر عدالتیں مجبور ہوتیں۔ مبصرین کے خیال میں ریفرنڈم میں پیش کردہ بیدخلی کی تجاویز منظور ہو جاتی تو غیر ملکی افراد کو انتہائی پریشان کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا۔

سن 2010 میں جنسی جرائم اور قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے والی غیرملکیوں کی بیدخلی کا قانون عوامی ریفرنڈم میں منظور کیا گیا تھا۔ اِس دستوری ترمیم کو ترپن فیصد کے قریب سوئس عوام نے منظوری کیا تھا۔