1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بغیر امن ناممکن، ملا منصور

افغان طالبان کے نئے سربراہ ملا منصور نے کہا ہے کہ اگر کابل حکومت ملک میں امن چاہتی ہے تو اسے امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ منسوخ کرنا اور تمام غیر ملکی فوجی دستوں کو افغانستان سے نکالنا ہو گا۔

کابل سے منگل بائیس ستمبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملا منصور نے یہ مطالبہ اسی ہفتے منائے جانے والے مسلم مذہبی تہوار عیدالاضحٰی کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں کیا ہے۔ ملا اختر منصور دو ماہ قبل جولائی میں طالبان کے سابق رہنما ملا عمر کی موت کی تصدیق کے بعد افغان طالبان کے رہنما چنے گئے تھے اور آج جاری کیا جانے والا پیغام عید کے موقع پر افغان عوام کے نام ان کا پہلا پیغام ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اپنے اس پیغام میں ملا اختر منصور نے کہا، ’’اگر کابل انتظامیہ ملک سے جنگ کا خاتمہ اور امن کا قیام چاہتی ہے تو ایسا تبھی ممکن ہو گا کہ افغانستان پر غیر ملکی فوجی قبضہ ختم کیا جائے، تمام غیر ملکی دستے افغانستان سے نکل جائیں اور کابل حکومت کے ان فوجی مداخلت کاروں کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کیے جائیں۔‘‘

ملا منصور کا انگریزی زبان میں جاری کردہ یہ پیغام افغان طالبان کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ملا عمر کے 2013ء میں انتقال کی جولائی میں تصدیق کے بعد سے افغانستان کی تحریک طالبان کو طاقت کی ایک ایسی داخلی کشمکش کا سامنا رہا ہے، جس سے اسے نقصان بھی پہنچا ہے اور جس پر قابو پانے کے لیے وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

افغان طالبان میں شامل بہت سے عناصر اس بات پر کافی ناخوش ہیں کہ ملا عمر کی موت کو قریب دو سال تک خفیہ رکھا گیا اور اس دوران ہر سال کی طرح عید کے مواقع پر ملا عمر کے نام سے جعلی پیغام بھی جاری کیے جاتے رہے۔

طالبان کو درپیش داخلی اختلافات اور افغانستان میں عسکریت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کی طرف سے قدم جمانے کی کوششوں کے باوجود طالبان کی چودہ سالہ مسلح بغاوت بظاہر کمزور ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ کابل میں افغان صدر اشرف غنی کی حکومت نے حالیہ مہینوں میں ملک میں قیام امن کے لیے طالبان کے ساتھ مفاہمت کی کئی کوششیں کیں لیکن ایسی تمام کوششیں اب تک ناکام ہی رہی ہیں۔

DW.COM