1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غیر ملکی تبّت سے نکل جائیں: چینی انتظامیہ کا حکم

چین مخالف تبّتی باشندوں اور چینی انتظامیہ کے درمیان حالیہ تنازعے کو شروع ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے مگر تبّتی دارلحکومت سہاسا میں شروع ہونے والے ہنگامے اور مظاہرے اب تبّت کے دوسرے شہروں تک پھیل گئے ہیں اور بین الاقوامی زرائع ابلاغ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس تنازعے میں اچھّی خاصی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

default

چینی میڈیا کی جانب سے ان مظاہروں کے بلیک آئوٹ کے باعث ہلاک ہونے ہالوں کی حتمی تعداد کا تعین نہیں ہو پایا ہے۔ چینی حکومت نے پیر کے روز تمام غیر ملکیوں کو تبّت سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔تبّت کے گورنر کے مطابق لہاسا میں پر تشدّد مظاہرین نے تیرہ افراد کو ہلاک کیا ہے جب کہ تبّتی بدھوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کی جلا وطن تبّتی حکومت کے مطابق چینی سیکیورٹی فورسز نے کم از کم سو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ غیر جانب دار زرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک درجن سے زائد ہے۔


چینی حکومت نے مظاہرین کو الٹیمیٹم دیا ہے کہ وہ منگل تک اپنے آپ کو چینی حکومت کے حوالے کر دیں ورنہ وہ سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔اس دوران چینی انتظامیہ نے چین مخالف تبّتی بھکشوئوں اور مظاہرین کو حراست میں لینا شروع کر دیا ہے اور سیکیورٹی اہلکار گھر گھر تلاشی لے رہے ہیں۔لہاسا میں کرفیو کا سماں ہے اور کسی بھی طرح کی ریلی نکالنا تقریباً نا ممکن ہے۔


بین الاقوامی برادری نے چینی حکومت کے طرزِ عمل پر کڑی تنقید کی ہے اور بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں نے چینی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زیرِ حراست تمام مظاہرین کو فوراً رہا کرے۔


دوسری جانب چینی حکومت نے مغربی ممالک اور بین الاقوامی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی جمہوری ملک پر تشدّد کاروائیوں کی اجازت نہیں دے سکتا۔چینی حکومت کا کہنا ہے کہ توڑ پھوڑ اور قتل و غارت کو مغربی ممالک پر امن مظاہرے کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ چینی حکومت نے مظاہروں کی ذمہ داری دلائی لامہ پر عائد کی ہے۔


دس مارچ کو شروع ہونے والے یہ مظاہرے انچاس برس قبل انیس سو انسٹھ میں ناکام چین مخالف تبّتی تحریک کی سالگرہ کے موقع پر شروع کیے گئے تھے۔


تبّت عرصے سے ایک متنازعہ علاقہ رہا ہے جس کا بڑا حصّہ چین کے زیرِ انتظام ہے جب کہ کچھ حصّے پر بھارت کا قبضہ ہے۔ تبّت بیسویں صدی سے قبل ایک خود مختار علاقہ تھا اور یہاں کی ایک بڑی بدھسٹ آبادی چین کے زیر ِانتظام رہنے کو تّیار نہیں ہے گو کہ دلائی لامہ چین سے تبّت کی آزادی کے بجائے وسیع تر خود مختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


ایک ایسے وقت جب اس سال چین بین الاقوامی اولمپکس مقابلوں کی میزبانی کر رہا ہے ، تبّت کا بحران چین کا کمیونسٹ حکومت کے لیے یقیناً باعثِ تشویش ہے۔