1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غیر ملکی املاک کی خریداری میں چینی عوام سب سے آگے

چین کی امینڈا سن گزشتہ دنوں سیاحت کے غرض سے پہلی مرتبہ آسٹریلیا گئیں تھیں۔ انہوں نے وہاں ایک ساحلی علاقے میں تین گھر خرید لیے۔

default

امینڈا سن ان ہزاروں چینی باشندوں میں سے ایک ہیں، جو بیرون ملک جائیداد خریدنے میں پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔

چین میں ایک چھوٹی سی تجارتی فرم کی مالک 33 سالہ امینڈا ان ہزاروں چینی باشندوں کی طرح ملک میں زمین کی بے انتہا بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہوکر بیرون ملک جائیداد خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

املاک کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ چینی عوام کو ایسے ممالک میں گھر خرید نے پر مجبور کر رہا ہے، جو عام طور پر چینی طلباء کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ ان ملکوں میں امریکا، برطانیہ، کینڈا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔

اس صورتحال کے باعث اب جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنے والے افراد چینی خریداروں کا گرمجوشی سے استقبال کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ امیر چینی باشندوں کو لبھانے کے لیے شنگھائی اور بیجنگ میں بھی اپنے پراجیکٹس کی تشہیر میں تیزی لا رہے ہیں۔

جائداد کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنے والے افراد چینی خریداروں کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہیں

جائداد کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنے والے افراد چینی خریداروں کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہیں

اسی رجحان کو دیکھتے ہوئے سی۔ بی رچرڈ ایلس نے بھی ایک خاص انتظام کیا ہے تاکہ ان ایشیائی افراد کی مدد کی جا سکے، جو بیرون ملک زمین اور گھروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایلس کی چین کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ ویب سائٹ گزشتہ دو برسوں سے چینی سرمایہ کاروں کو مغربی ممالک کا دورہ کروا رہی ہے۔

ایسے ہی آسٹریلیا کی ایک کمپنیAGC Property Centre Pty Ltd کی چیئرپرسن سینڈی چھین کہتی ہیں کہ چینی باشندے ان کے سب سے اہم صارف ہیں۔ سینڈی مزید بتاتی ہیں اب ان کا کاروبار تیزی سے ترقی کر رہا ہے وہ ہر دوسرے مہینے چین کا دورہ بھی کرتی ہیں تاکہ اپنے صارفین کو آسٹریلیا میں برائے فروخت املاک کے بارے میں بتا سکیں۔ اسی وجہ سے وہ بیجینگ میں بھی اپنا دفتر کھولنے کا سوچ رہی ہیں۔

تاہم کہا یہ جاتا ہے کہ چھین اور جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والے دیگر کاروباری افراد کی مصروفیت میں مزید اضافہ ہو جاتا اگر چین میں سرمایہ کی منتقلی کے حوالے سے سخت پالیسی نہ ہوتی۔

اس وقت چینی میں سالانہ 50،000 ڈالر سے زائد مالیت کی غیر ملکی کرنسی خریدنے پر پابندی عائد ہے۔ خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس سطح کو بڑھا کر 200,000 تک لے جائے گی تاہم اس کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا یہ اضافہ ہوگا بھی کہ نہیں۔جائیداد کی خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک افراد اب اس انتظار میں ہیں کہ چین میں کب سرمائے کی منتقلی کے قانون میں نرمی لائی جائےگی۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM