1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

غیر ملکی آرٹسسٹ برلن میں

تاریخ کےہر دور میں زمین پر کوئی نہ کوئی شہر جمالیاتی آرٹ کے فنکاروں کو چھتری فراہم کرتا آرہا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اکیسویں صدری میں جرمن دارلحکومت برلن یہ ذمہ داری نبھا رہا ہے۔

default

برلن میں کولمبیا کے آرٹسٹ Fernando Botero کا بنایا ہو ا مجسمہ

یورپ اوردوسرے ملکوں سےہزاروں فنکار اپنےخواب ساتھ لئے جرمن دارالحکومت برلن پہنچ رہے ہیں۔ جن میں مصور، شاعر، اداکار، موسیقار اور ڈیزائنر شامل ہیں۔ اور اسی کو دیکھتے ہوئے برلن کواکیسویں صدی کا فنکاروں کا ٹھکانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کیمرون سے آئر لینڈ تک کے یہ آرٹسٹس انتہائی مشکل اقتصادی صورت حال کا سامنا کرنے کے باوجود مطمئن اور خوش نظر آتے ہیں۔ستر کی دہائی کے اوائل میں امریکی شہر نیویارک اور پھر اِسی دہائی کے آخر میں لندن کو بھی کچھ ایسی صورت حال کا سامنا تھا۔ کئی ایسے بھی ہیں کہ جو بمشکل ایک ماہ میں چھ سو یورو تک کما سکنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

برلن شہر میں آٹھ بڑے کلاسیکی موسیقی کے آرکسٹرا گروپس ہیں جو مغربی کلاسیکی موسیقی کی ترویج میں پیش پیش ہیں۔ تین بین الاقوامی معیار کے اوپرا ہاوس ہیں جہاں پیش کئے جانے والے اوپراز اپنی مثال آپ تصور کئے جاتے ہیں۔ اِسی طرح شہر میں سینکڑوں آرٹ گیلیریاں ہیں جو فنکاروں کو عزت و توقیر بخشتی ہیں۔ فنکاروں کے اِس ہجوم کا حجم یہ ہے کہ ایک سو اسی ملکوں کے پانچ لاکھ کے قریب فنکار اور طالب علم شہر میں موجود ہیں۔

Stones Shine a light

جرمن دارالحکومت برلن کے بارے میں یہ بھی عام ہے کہ وہ ایک غریب شہر ہے۔ برلن شہر دیوالیہ پن کے قریب ہے اور ساٹھ ارب یورو کےبوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ شہر کے میئر کلاؤس ووورائٹ کا کہنا ہے کہ برلن شہر کے پاس سرمایہ نہیں لیکن اُس کا اصل سرمایہ شہر کا اندر موجود ہمہ جہت افراد ہیں۔ووورائٹ کے مطابق شہر کے اندر تین فری یونیورسٹیاں ہیں جہاں دُنیا بھر سےایک لاکھ بیس ہزار طالبِ علم موجود ہیں۔ اِس کےعلاوہ کئی چھوٹے تھیئٹر اور فلمسازی کے سکول ہیں۔ شاید شہر کے اِس تشخص کی وجہ سے دنیا کا ایک اہم فلمی میلہ ہر سال منعقد ہوتا ہے۔

کچھ غیر ملکی فنکاروں کا خیال ہے کہ برلن کے اِس روپ نے چیک جمہوریہ کے شہر پراگ کو مات دے دی ہے۔ ملکوں ملکوں سے آئےہوئے فنکار برلن کو ایک غریب پرور شہر قرار دیتے ہیں۔ برلن کےحوالے سے ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ سن اُنیس سو نوے کے بعدبرلن کی جتنی آبادی نےمہاجرت کی ہے اُتنے ہی لوگ باہر سے آ کر آباد ہو گئے ہیں۔ برلن کے ہم جنس پرست مئیر فنکاروں کی پذیرائی کے لئے ہمہ وقت حاضر ہیں۔