1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’غیر ملکیوں سے نفرت‘ کی بناء پر امریکا میں بھارتی شہری قتل

امریکی ریاست کینساس میں مبینہ طور پر ’غیر ملکیوں سے نفرت‘ کی بناء پر فائرنگ کر کے ایک بھارتی شہری کو قتل اور دوسرے کو زخمی کرنے والے ایک مقامی باشندے کو گرفتار کر کے اس پر باقاعدہ فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

واشنگٹن سے جمعہ چوبیس فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق مشتبہ طور پر تارکین وطن کے لیے نفرت کے جذبات کی وجہ سے اس خونریز جرم کا ارتکاب ریاست کینساس کی جانسن کاؤنٹی میں کیا گیا، جہاں بدھ بائیس فروری کی شام یہ واقعہ ایک شراب خانے میں پیش آیا۔

روئٹرز کے مطانق امریکا میں جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی اہلکار اس جرم کی ’نفرت کی بناء پر خونریزی‘ کے ایک واقعے کے طور پر چھان بین جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملزم، جو ایک مقامی امریکی باشندہ ہے، کا نام ایڈم پیورنٹن بتایا گیا ہے اور اس کی عمر 51 برس ہے۔

Deutschland FBI Logo in der US-Botschaft in Berlin (picture-alliance/dpa/T. Brakemeier)

ایف بی آئی کی طرف سے اس جرم کی ’نفرت کی وجہ سے خونریزی‘ کے واقعے کے طور پر چھان بین کی جا رہی ہے

جانسن کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی اسٹیفن ہاؤ نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ پیورنٹن پر عائد کردہ فرد جرم کے مطابق وہ ایک واقعے میں دانستہ قتل اور دو واقعات میں دانستہ اقدام قتل کے جرائم کا مرتکب ہوا۔

ایڈم پیورنٹن نے جانسن کاؤنٹی میں اولیتھ کے مقام پر آسٹنز بار اینڈ گرل نامی شراب خانے میں 32 سالہ بھارتی شہری شری نیواس کوچی بھوتلہ اور 32 برس ہی کی عمر کے الوک مدسانی پر فائرنگ شروع کر دی تھی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں کوچی بھوتلہ کا انتقال ہو گیا جبکہ شدید زخمی حالت میں مدسانی اس وقت ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

اسٹیٹ پراسیکیوٹرز کو شبہ ہے کہ ملزم نے اس قتل اور قاتلانہ حملے کا ارتکاب غیر ملکیوں خاص کر تارکین وطن سے نفرت کی وجہ سے کیا۔ اسی سلسلے میں مقامی اخبار کینساس سٹی سٹار کو اس بار میں حملے کے وقت موجود ایک عینی شاید نتے بتایا کہ ملزم پیورنٹن نے ان دونوں بھارتی مرد شہریوں پر فائرنگ کرنے سے پہلے چیخ کر یہ بھی کہا تھا، ’’میرے ملک سے دفع ہو جاؤ۔‘‘

پولیس کے بیانات کے مطابق ملزم پیورنٹن پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے اس واقعے کے وقت مداخلت کر کے ملزم کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے والے ایک چوبیس سالہ امریکی شہری ایان گریلٹ کو بھی زخمی کر دیا۔ ایان گریلٹ بھی ملزم پیورنٹن کی طرف سے کی جانے والے فائرنگ سے زخمی ہوا۔

اس واقعے کے بعد بھارتی خاتون وزیر خارجہ سشما سوراج نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’میں کینساس میں فائرنگ کے واقعے پر ابھی تک شدید دھچکے کی کیفیت میں ہوں جس میں بھارتی شہری شری نیواس کوچی بھوتلہ ہلاک ہو گیا۔‘‘

Karte USA Bundesstaaten Mittlerer Westen Deutsch Englisch

ملزم ریاست کینساس میں اس قتل کے پانچ گھنٹے بعد بعد ہمسایہ امریکی ریاست میسوری سے گرفتار کیا گیا

اسی دوران بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے بھی اپنے ایک بیان میں اولیتھ کینساس میں پیش آنے والے اس واقعے کی مذمت کی ہے جبکہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں قائم بھارتی قونصل خانے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس کے دو اہلکار کینساس بھیج دیے گئے ہیں جہاں وہ دونوں زخمیوں (ایک بھارتی اور ایک امریکی)  کے علاوہ مقامی پولیس اہلکاروں سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

کوچی بھوتلہ اور مدسانی بھارتی انجینئروں کے طور پر کینساس میں ایوی ایشن سسٹمز انجینئرنگ ٹیم کے ارکان کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

ملزم پیورنٹن اس واقعے کے بعد موقع سے پیدل ہی فرار ہو گیا تھا تاہم اسے پانچ گھنٹے بعد ریاست میسوری کے شہر کلنٹن سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کینساس سٹی سٹار نامی اخبار کے مطابق ملزم نے کلنٹن میں ایک شخص کے بتایا تھا کہ اسے چھپنے کے لیے کسی جگہ کی تلاش تھی کیونکہ اس نے ’مشرق وسطیٰ سےتعلق رکھنے والے دو افراد‘ کو قتل کر دیا تھا۔

DW.COM