’غیر معیاری میگی نوڈلز‘، بھارت میں نیسلے کو جرمانہ | صحت | DW | 29.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

’غیر معیاری میگی نوڈلز‘، بھارت میں نیسلے کو جرمانہ

بھارتی صوبے اترپردیش میں حکام نے نیسلے کمپنی کو غیر معیاری نوڈلز بیچنے پر جرمانہ کر دیا ہے۔ فوڈ انسپکٹرز نے بڑے پیمانے پر فروخت ہونے والے میگی نوڈلز کے نمونوں میں ’گندگی‘ کی نشاندہی کی تھی۔

بھارت میں دو برس قبل بھی سوئس کمپنی نیسلے کے تیار کردہ ’میگی نوڈلز‘ کے غیر معیاری ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ بھارتی ریاست اترپردیش میں فوڈ انسپکٹرز کی جانب سے ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر فروخت ہونے والے ’میگی نوڈلز‘ کے غیر معیاری ہونے کی نشاندہی کی تھی۔

بھارت میں نیسلے پر ہرجانے کا دعویٰ

ضلع شاہ جہان پور کی انتظامیہ نے اس معاملے پر نیسلے کمپنی کو پینتالیس لاکھ بھارتی روپے جرمانہ عائد کیا ہے جب کہ اس پراڈکٹ کے مقامی ڈسٹری بیوٹر کو بھی سترہ لاکھ بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس حوالے سے اشیائے خورد و نوش کے معیار پر نظر رکھنے والے ضلعی ادارے کے سربراہ ڈی پی سنگھ نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا، ’’میگی نوڈلز کے کوالٹی ٹیسٹ کے دوران اس کے غیر معیاری ہونے کی نشاندہی ہوئی۔ نوڈلز کے نمونوں میں ملنے والی راکھ اور بھاری دھاتوں کے ذرات کی مقدار انسانی صحت کے لیے مقرر کردہ معیار سے زیادہ تھے۔‘‘

دوسری جانب نیسلے بھارت کے ایک ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ نیسلے میگی نوڈلز استعمال کے لیے ’سو فیصد محفوظ‘ ہیں۔ نیسلے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس ٹیسٹ کے لیے استعمال کردہ معیار اور طریقہ کار ہی غلط تھا۔ سوئس کمپنی نے جرمانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

سن 2015 میں بھی نیسلے کمپنی کے تیار کردہ انہی نوڈلز کو بھارت میں ’صحت کے لیے نقصان دہ‘ قرار دے کر ان کی فروخت پر چھ ماہ کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

پیلی اور سرخ پیکنگ والی میگی نوڈلز بھارت کے عوام میں کافی مقبول ہیں اور ملک بھر میں قریب ہر شہر اور قصبے یہ فروخت کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔

بھارت میں میگی نوڈلز کی تیاری، فروخت پر پابندی

DW.COM