1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غیر معروف ٹی وی چینل بارادا کو الزامات کا سامنا

لندن میں قائم بارادا چینل کو عرب ملک شام میں حکومت مخالف مظاہرین کی کوریج سے شہرت حاصل ہوئی ہے، جسے ایک الزام نے دھندلا دیا ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چینل کی انتظامیہ کو واشنگٹن حکومت نے فنڈز مہیا کیے تھے۔

default

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے شام میں حکومت مخالف گروپوں کو خفیہ طور پر مالی وسائل فراہم کرنے کا انکشاف وکی لیکس کے ایک مراسلے سے ہوا ہے۔ اس کی تفصیلات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوئی ہیں، جس کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد کے مخالفین کو فراہم کی جانے والی کل رقم ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالرکے قریب ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ رقم امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔ اس رقم میں سے تقریباً ساٹھ لاکھ لندن میں قائم ایک غیر معروف چینل بارادا کو دیے گئے تھے۔ رقم کی فراہمی میں دمشق حکومت کے مخالفین کی لندن میں قائم کردہ تنظیم کا کردار اہم ہے۔ لندن میں قائم ‘تحریک برائے انصاف اور ترقی’ یا (Movement for Justice and Development) ہے۔

اس تنظیم تک رقوم کی فراہمی امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم ایک بڑی غیر سرکاری تنظیم ڈیموکریسی کونسل کے ذریعے کی گئی تھی۔ وکی لیکس کی جانب سے جاری کی جانے والی کیبل شام کے دارالحکومت دمشق میں قائم امریکی سفارت خانے کی جانب سے ارسال کی گئی تھی۔

اس ٹیلی وژن چینل کی شہرت کے حوالے سے اس کے چیف ایڈیٹر ملک عبدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے ان کے ٹی وی کے بارے میں کسی نے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا لیکن اب ہر کوئی ان کی نشریات میں دلچسپی لینے لگا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اس ٹیلی وژن چینل کی دمشق حکومت کی مخالف تنظیم تحریک برائے انصاف اور ترقی سے گہرے اور قریبی رابطے ہیں۔

No Flash Unruhen im syrischen Homs

حمص شہر میں حکومت مخالف تحریک شدت اختیار کرچکی ہے

ملک عبدہ نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی حکومت کے ساتھ کسی بھی رابطے کی تردید کی ہے۔ اس کے علاوہ عبدہ کا مؤقف ہے کہ بارادا چینل لندن میں قائم شامی حکومت کی مخالف تنظیم سے بھی علیٰحدہ ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس تنظیم کے بانی اراکین میں ملک عبدہ کا نام بھی شامل ہے۔ بارادا چینل کے چیف ایڈیٹر نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کے چینل کے لیے نصف سرمایہ کاری کیلیفورنیا کی ایک غیر سرکاری تنظیم ڈیموکریسی کونسل کی جانب سے کی گئی ہے اور بقیہ شام کی تاجربرادری کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔ چیف ایڈیٹر نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ شام کی حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کو واشنگٹن یا کسی غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے مالی معاونت حاصل ہے۔

کیلیفورنیا میں قائم مشہور اور بین الاقوامی شہرت کی حامل غیر سرکاری تنظیم ڈیموکریسی کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق اس کی مالی مدد کرنے والوں میں امریکی وزارت خارجہ کے علاوہ یہودی، فلسطینی اور تامل گروپ شامل ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس