1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غیر مسلم شہری سیلاب اور ڈکیتی کی زد میں

سیلاب سے متاثرہ لٹے پٹے غیر مسلم شہری سینکڑوں کی تعداد میں سندھ سے پنجاب کے محفوظ مقامات پر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

default

سندھ کا دارالحکومت کراچی ایک عرصے سے تشدد اور فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں

صوبہ سندھ کے علاقوں کشمور ، کندھ کوٹ ، عمر کوٹ، غوث پور ، ٹھل اور کرم پور سے آنے والے سکھووں اور ہندووں کو لاہور، ننکانہ صاحب ، حسن ابدال اور نارووال کے گورد واروں میں ٹہرایا گیا ہے۔ سندھ سے آئے ہوئے سیلاب سے متاثرہ دیپک نامی ایک ہندو نے بتایا کہ کندھ کوٹ کے آس پاس کے تمام علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ ہر طرف ڈاکووں اور غنڈوں کا راج ہے ۔ سیلابی علاقوں میں پولیس تھانے خالی کر کے جا چکی ہے اور کچے کے ڈاکووں کو روکنے کیلئے فوج بھی کچھ نہیں کر پا رہی ہے۔ کندھ کوٹ سے آئے ایک اور ہندو پنجو مل نے بتایا کہ غوث پور ڈوبنے کے بعد کندھ کوٹ میں پانی آنے کی افواہیں پھیلا کر پہلے شہریوں کو بھگا دیا گیا ۔ بعد ازاں ان کے گھروں اور دکانوں سے سامان لوٹ لیا گیا ۔

BdT Sikh Pilger im Zug nach Pakistan

سمجھوتا ایکسپریس کے ذزیعے بھارت سے پاکستان آئے ہوئے سکھ زائرین

ایک اور ہندو شخص ڈاکٹر شترو گھن نے کہا ’ ہمارے بار بار اطلاع دینے پر ضلعی انتظامیہ نے ڈاکووں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ڈاکو ہمارے سامنے ہمارے گودام خالی کر کے لے گئے، ڈاکووں کے جانےکے بعد رسمی کاروائی کے لئے پولیس بھی آ گئی‘۔ روشن سنگھ نامی ایک سندھی سکھ نے بتایا کہ سیلاب کی آفت آنے پر خدا سے تو شکوہ نہیں ہو سکتا لیکن سیلابی علاقوں میں جو کچھ انسان کر رہے ہیں، وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ایک خاتون برکھا کور نے بتایا کہ حکومت کندھ کوٹ کے نواحی علاقوں میں پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کر رہی ۔

ادھر پاکستان مائنارٹیز کونسل کے چئیرمین سردار بشن سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں سکھوں اور ہندووں کو لوٹنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے چئیرمین آصف ہاشمی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ غیر مسلموں کے ساتھ ڈکیتی کی وارداتوں کی اطلاعات کی تحقیقات کروائی جائیں گی اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کیلئے متعلقہ محکموں سے سفارش بھی کی جائیگی۔

Flash-Galerie Pakistan: Hindu-Fesival in Lahore

لاہور میں ہندو فیسٹیول دیوالی کا انعقاد

ادھر نوشہرہ میں بھی ساٹھ کے قریب سکھ تاجروں کی کپڑوں کی دکانیں سیلاب کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ سیلاب سے متاثر ہونے والے غیر مسلم شہریوں کی حتمی تعداد کا ابھی اندازہ لگایا جانا ممکن نہیں ہے۔ تاہم پاکستان کے گوردواروں ، چرچوں اور مندروں میں سیلابی آفت سے نجات کی دعائیں مانگی جا رہی ہیں اور عبادات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد ، لاہور

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس