1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

غیر متعدی امراض سے کئی ٹریلین ڈالر کے مالی نقصانات

دنیا بھر میں پانچ سر فہرست بیماریوں یعنی کینسر، ذیابیطس، نفسیاتی امراض، سانس کی بیماری اور عارضہء قلب کے سبب اگلے بیس سالوں میں قریب 47 ٹریلین ڈالر سے بھی زائد مالیت کے نقصانات مرتب ہوں گے۔

default

عالمی اقتصادی فورم WEF کی ایک تحقیق کے مطابق ان بیماریوں سے ہر سال 36 ملین سے زائد افراد لقمہء اجل بنتے ہیں اور یہ تعداد آنے والے برسوں میں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ان ہی ہلاکتوں اور بیماری کے سبب صنعتی و تجارتی پیداوار میں کمی کو مدنظر رکھ کر مالی نقصان یا اثرات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔  عالمی اقتصادی فورم کی اس تحقیق میں ممتاز امریکی ادارے ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی کاوشیں بھی شامل ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ نقصانات اگلی دو دہائیوں میں مجموعی عالمی پیداوار کے چار فیصد کے برابر ہیں۔

عالمی اقتصادی فورم میں بیماریوں اور ان کے علاج سے متعلقہ امور کی سربراہ Eva Jane-Llopis کے بقول یہ معاملہ محض صحت ہی سے جڑا نہیں بلکہ یہ ایک انتہائی اہمیت کا حامل اقتصادی معاملہ بھی ہے۔ یہ رپورٹ عین ایسے موقع پر عام کی گئی ہے جب ان امراض سے متعلق اقوام متحدہ میں دو روزہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں ان منصوبوں پر غور کیا جائے گا، جن کے تحت ان بیماریوں سے نمٹا جاسکے۔

WHO Logo

عالمی ادارہء صحت کے تحت انسداد تمباکو نوشی سے متعلق مختلف ممالک میں کئی پروگرام جاری ہیں

عالمی ادارہ صحت WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق Non-Communicable Diseases یا غیر متعدی امراض کا دائرہ پھیل رہا ہے اور 2030ء تک ان کے سبب ہلاکتوں کی سالانہ تعداد 52 ملین تک پہنچ جانے کا خدشہ موجود ہے۔ عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بیماریاں خوراک، تمباکو و شراب نوشی اور جسمانی ورزش سے متعلق ہیں اور بالعموم امراء اس کا نشانہ بنتے ہیں۔  WEF  کی تحقیق کے مطابق اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ یہ بیماریاں غریب اور متوسط ممالک میں بھی پھیل رہی ہیں اور ان کے شکار 80 فیصد سے بھی زائد افراد کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

WEF  کے سینیئر ڈائریکٹر کے مطابق ان غیر متعدی امراض سے نہ صرف متاثرہ ممالک کی مجموعی اقتصادی صورتحال متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی معیشت بھی خطرات سے دوچار ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے کافی امیدیں باندھی جا رہی ہیں تاہم ایسے خطرات موجود ہیں کہ تمباکو، شراب اور تیار خوراک بیچنے والی بڑی کمپنیاں اپنے اثر و رسوخ سے اس اجلاس میں بڑے فیصلوں کا راستہ روک سکتی ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت : حماد کیانی

DW.COM