1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

غیر قانونی تارکین وطن کی گاڑی پر فائرنگ، مہاجر خاتون زخمی

سلوواکیہ کسٹم آفیسرز کی فائرنگ سے ایک تارک وطن خاتون زخمی ہو گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ اس وقت کی گئی جب ایک کار میں سوار غیر قانونی تارکین وطن نے ہنگری کے راستے سلوواکیہ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والی مہاجر خاتون کا تعلق شام سے تھا۔ یہ خاتون اس وقت زخمی ہو گئی تھی جب سلوواکیہ کسٹمز کے اہلکاروں نے ایک ایسی کار پر فائرنگ کر دی جو غیر قانونی تارکین وطن کو لے کر ہنگری کے ذریعے سلوواکیہ کی حدود میں داخل ہوئی۔

دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ بند کرنے کا اعلان

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

مہاجرین اور تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر اپنی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مختلف یورپی ممالک کے سکیورٹی حکام کی جانب سے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال تو کیا جاتا رہا ہے لیکن شینگن زون میں غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کے لیے ان پر فائرنگ کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

سلوواکیہ کے کسٹم حکام کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ آج نو مئی بروز پیر علی الصبح کسٹم کے اہلکار سلوواکیہ کی حدود میں داخل ہونے والی گاڑیوں کو روک کر تلاشی لے رہے تھے۔ اس دوران سرحد پر چار کاریں پہنچیں۔ حکام نے جب انہیں روکا تو تین کاریں تو رک گئیں لیکن چوتھی کار کے ڈرائیور نے سکیورٹی اہلکاروں کی ہدایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گاڑی بھگا دی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے جس رفتار اور انداز سے کار بھگانے کی کوشش کی، اس سے تین سکیورٹی اہلکاروں کی جان خطرے میں تھی۔ پریس ریلیز کے مطابق، ’’اہلکاروں نے پہلے وارننگ دینے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تاہم جب گاڑی نہیں رکی تو کار پر فائرنگ کرنا پڑی جس سے ایک خاتون زخمی ہو گئی۔‘‘ پریس ریلیز میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

رخمی خاتون اور دیگر مسافروں کو فوری طور پر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والی تارک وطن کا تعلق شام سے ہے اور اس کی عمر چھبیس سال ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والی خاتون کی پشت پر گولی لگی۔ خاتون کا آپریشن کر کے گولی نکال دی گئی ہے اور اب اس کی زندگی خطرے سے باہر ہے۔

سلوواکیہ کے کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ ان تارکین وطن کو سرحد کی نگرانی پر مامور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

جرمنی اور دیگر مغربی و شمالی یورپی ممالک کی جانب سفر کرنے والے زیادہ تر تارکین وطن آسٹریا سے گزر کر ان ممالک کی جانب سفر کرتے رہے ہیں۔ تاہم آسٹریا اور ہنگری کی جانب سے سرحدوں کی نگرانی سخت کیے جانے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سلوواکیہ کے ذریعے جرمنی کی جانب سفر کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

DW.COM