1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غیر قانونی افغان مہاجرین کی آمد کے خلاف حکومتی مطالبات

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا وفاق سے مطالبہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ طورخم کی سرحد پر صوبائی پولیس اور اسپیشل برانچ کے اہلکاروں کی تعیناتی کی اجازت دی جائے تاکہ غیر قانونی افغان مہاجرین کا داخلہ روکا جا سکے۔

پشاور حکومت کی طرف سے یہ مطالبہ خیبر پختونخوا میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے یکم اپریل سے صوبے میں غیر قانونی افغان مہاجرین کا داخلہ سختی سے روک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو ان کی واپسی کے لیے گزشتہ برس اکتیس دسمبر تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاہم وزیر اعظم نواز شریف نے اس میں چھ ماہ کی توسیع کر دی تھی، جس کے بعد افغانستان سے آنے والوں کے لیے طورخم پر سرحدی گزرگاہ پر راہداری پاس بنوانے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔

DW.COM

اس بارے میں جب پاک افغان سرحد پر تعینات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے حکام سے رابطہ کیا گیا، تو ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ تین ماہ کے دوران صرف بارہ ہزار افغان باشندوں کو راہداری پاس جاری کیے گئے۔ ان ’راہداریوں‘ کی وجہ سے وہ پاکستان میں داخل ہو سکتے تھے۔ تاہم اس اہلکار نے تسلیم کیا کہ راہداری پاس بنوانے کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ عملے کی کمی اور انتظامات کا فقدان ہے۔

دوسری جانب طورخم کی پاک افغان سرحد پر بس اسٹینڈ کے ٹرانسپورٹرز کی تنظیم کے صدر حاجی رحیم گل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہر ہفتے سے جمعرات تک اوسطاﹰ پندرہ سے بیس ہزار افغان شہری سرحد عبور کرتے ہیں۔ اتوار کے روز پاکستان میں جبکہ جمعہ کے روز افغانستان میں چھٹی کی وجہ سے اس تعداد میں پندرہ سے بیس فیصد تک کی کمی ہو جاتی ہے۔

حاجی رحیم گل کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے سکیورٹی اہلکاروں نے سختی شروع کر رکھی ہے۔ بعض اوقات سکیورٹی اہلکار گاڑیوں سے بھی مسافروں کو اتار لیتے ہیں، جس پر ٹرانسپورٹر احتجاج پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں کو چاہیے کہ وہ سرحد عبور کرنے سے قبل ہی ایسے افغان شہریوں کے بارے میں چھان بین کر لیا کریں۔ ’’ہم تو اپنی گاڑیوں میں صرف وہ افغان مسافر بٹھاتے ہیں، جن کے پاس قانونی کاغذات موجود ہوتے ہیں۔‘‘

صوبائی حکومت کی جانب سے غیر قانونی افغانوں کی آمد پر پابندی سے متعلق جب لنڈی کوتل، خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے قبائلی اُمور کے ماہر ابراہیم شنواری سے ڈوئچے ویلے نے رابطہ کیا، تو ان کا کہنا تھا، ’’اگر افغانوں کی آمد و رفت کو ریگولیٹ کیا جائے، تو اس سے جرائم میں ملوث افراد کی نشاندہی میں آسانی ہو گی۔ لیکن صوبائی حکومت نے افغانوں کے جرائم میں ملوث ہونے سے متعلق اپنا موقف پولیس کے بیان کی روشنی میں جاری کیا ہے اور پولیس جرائم کی روک تھا م میں ناکامی پر اس کی ذمہ داری افغان مہاجرین پر ڈال دیتی ہے۔ ’’اس میں حقیقت کم ہے۔‘‘

ابراہیم شنواری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں الگ الگ ممالک ہیں۔ لہٰذا دنوں ممالک کے شہریوں کو دوسرے ملک کے قوانین کا خیال رکھنا چاہیے۔ ’’لیکن دونوں ممالک کی سرحدوں پر ’مینجمنٹ‘ کی بجائے ’مِس مینجمنٹ‘ دیکھنے میں آتی ہے، جس کا فائدہ شرپسند اٹھاتے ہیں۔ غیر قانونی افغان مہاجرین کی آمد قانونی طور پر آنے والے افغانوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے اور یوں انہیں بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘‘

پاکستان میں پندرہ ملین تک رجسٹرڈ جبکہ اس سے زیادہ تعداد میں غیر قانونی افغان رہائش پذیر ہیں، جن کی اکثریت صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں مقیم ہے۔ صوبائی حکومت نے اس سے قبل بھی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ اب دہشت گردی کے واقعات می‍ں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ثبوت ملنے پر ایک بار پھر یہ مطالبہ سامنے آیا ہے۔

سکیورٹی امور کے ماہر اقبال خٹک سے ڈوئچے ویلے نے جب پوچھا کہ آیا صوبائی حکومت کے اس اقدام سے صوبے میں امن قائم ہو سکے گا، تو ان کا کہنا تھا، ’’خیبر پختونخوا کو قبائلی علاقوں اور افغان سرحد کی وجہ سے امن کے قیام میں مسئلہ ضرور درپیش ہے۔ صوبے میں جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کر کے وہاں مسلح اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آتی۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جدید دور میں گھر کے اندر مورچے نہیں بنائے جاتے بلکہ اس مقام تک رسائی حاصل کی جاتی ہے جہاں سے خطرات کا پیشگی تدارک کیا جا سکے۔ اب خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں تک رسائی اور وہاں صوبائی پولیس کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ’’لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین ہم آہنگی ہو گی۔‘‘