1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غیرملکی دہشت گردوں کی بھرتی کے خلاف یورپی یونین کا ایک غیر معمولی فیصلہ

فرانس، جرمنی، برطانیہ اور بیلجیئم سمیت یورپی یونین کے 17 ممالک نے یورپ سے ’’غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں‘‘ کی بھرتی روکنے کے لیے تیار کردہ ایک بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

آج جمعرات 22 اکتوبر کو اس معاہدے پر دستخط ہوئے۔ یورپ کی 47 رکنی کونسل کی طرف سے تیارکردہ اس نئے پروٹوکول میں دہشت گردی سے متعلق کارروائیوں کے موجودہ قوانین کی بہت ساری شقوں میں ترامیم کی گئی ہیں۔

اس نئے معاہدے میں ’’دہشت گردی کے مقصد کے لیے بیرون ملک سفر‘‘ دہشت گردی کے لیے تربیت حاصل کرنے اور ’’دہشت گردی کے مقصد کے لیے بیرون ملک سفر میں سہولت بہم پہنچانے اور سفر کا انتظام کرنے‘‘ جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان تمام امور کا تعلق جہادی گروپوں کی فنڈنگ سے ہے۔

Islamischer Staat Terrormiliz IS

دہشت گرد تنظیم میں یورپی ممالک کے متعدد شہری شامل ہیں

لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں اس نئے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط ایک تقریب میں کیے گئے۔ اس موقع پر کونسل آف یورپ کے چیف تھوربیون ژاگلینڈ نے کہا، ’’شاذ و نادر ہی اس طرح کے ایک معاہدے کو شروع سے ہی اس طرح کی متفقہ حمایت حاصل ہوتی ہے۔‘‘

ژاگلینڈ کا مزید کہنا تھا، ’’یہ سب کچھ دہشت گردوں کو ایک سگنل بھیجنے کے لیے ہماری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

کونسل آف یورپ کے چیف نے دہشت گردوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا، ’’یورپ اپنی سرحدوں کو بند کر رہا ہے۔ ہم آپ کے انتظار میں نہیں بیٹھے ہیں ہم خود آپ کی طرف آ رہے ہیں۔‘‘

یہ نیا پروٹوکول یورپ کی طرف مہاجرین کے بڑھتے ہوئے سیلاب میں شام اور عراق سے ممکنہ طور پر یورپ آنے والے جہادیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر محض سات ہفتوں کی قلیل مدت میں تیار کیا گیا۔

اس معاہدے پر دستخط کرنے والے تمام ممالک کو اب انفرادی طور پر اپنی اپنی پارلیمان سے توثیق کروانا ہوگی۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں طے پایا ہے جب ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ عراق اور شام جیسے بحران زدہ ممالک میں سرگرم جہادیوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کو اسلامک اسٹیٹ گروپ 10 ہزار ڈالر فی کس ادا کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کو بیلجیئم کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ عراق اور شام سے لوٹنے والے 500 غیر ملکی جنگجوؤں کا تعلق بیلجیئم سے تھا جو یورپی یونین کے کسی ایک ملک سے عراق اور شام کے جہاد میں شریک ہونے والے جہادیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔