1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

غیرملکی اداکار ممبئی کی فلمی نگری کی جانب مائل

بھارت آنے والے کئی سفید فام غیر ملکی سیاح واپس اپنے ملکوں میں جا کر بالی وڈ میں بطور اضافی اداکار کام کرنے کی قصے کہانیاں سناتے ہیں۔ مگر اب بالی ووڈ میں پروفیشنل غیر ملکی ادارکاروں کی تعداد بھی بڑھ رہی ۔

default

خبر رساں ادارے AFP نے ایک تیس سالہ امریکی اداکار ایلکس اونیل کی کہانی رپورٹ کی ہے۔ اونیل کا تعلق امریکہ کے مشرقی ساحلی ریاست کنیٹیکٹ سے ہے۔ انہوں نے تھیٹر کی تعلیم مکمل کرکے امریکہ ہی میں ایک مارکیٹنگ فرم میں نوکری شروع کی تھی۔ مگر سات سال قبل اس فرم نے انہیں بھارتی فلمی صنعت کے مرکزی شہر ممبئی ٹرانسفر کردیا تھا جہاں بالی وڈ ان کی اگلی منزل بن گئی۔ جب سے اب تک وہ کئی ساؤتھ انڈین اور ہندی فلموں میں جلوہ گر ہوچکے ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور مزاحیہ فلم Lions of Punjab Presents بھی ہے جو ممبئی اور نیو جرسی میں فلمائی گئی تھی۔

اونیل ان دنوں اکشے کمار کے ساتھ جوکر نامی فلم پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بھارتی اداکارہ سے شادی کر رکھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ہالی وڈ کے مقابلے میں بالی وڈ میں نام بنانا ان کے لیے انتہائی آسان ثابت ہوا۔ ’’ اگر میں بھارتی ہوتا تو مجھے ایک کردار کے حصول کے لیے بہت سے ہم پلہ اداکاروں کا مقابلہ کرنا پڑتا، میرا یہی حال ہالی وڈ میں ہوتا مگر اس وقت مجھے کم کرداروں کے حصول کے لیے کم ہی لوگوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘

کتھرینہ کیف ایک فلم میں اکشے کمار کے ہمراہ

اونیل جیسے غیر ملکی مرد اداکاروں کے مقابلے میں غیر ملکی خواتین کی زیادہ بڑی تعداد بالی وڈ میں بطور پروفیشنل ڈانسر اپنا کیریئر جمانے کی کوششوں میں ہیں۔ اس ضمن میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والی باربرہ موری ، برازیل کی جیزیلے مونتائرو، چیک جمہوریہ کی یانا گپتا اور نرگس فخری، آسٹریلیا کی تانیا زائیتا اور برطانوی شہریت کی حامل پریٹی دیسائی اور صوفیہ حیات کے نام لئے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں ہانگ کانگ میں پیدا ہوئی اور لندن میں پلی بڑھی کترینہ کیف کو سب سے کامیاب شمار کیا جاتا ہے جنہیں کیریئر کے آغاز میں ہندی بولنا بھی نہیں آتی تھی۔

بھارتی فلمی صنعت سے وابستہ فلمساز غیر ملکیوں کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہیں اور اسے ہندی فلموں کی عالمگیر سطح پر مقبولیت کی علامت سمجھتے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM