1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غیرمعیاری گیس سلنڈر، جان لیوا منافع

پاکستان میں سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کے سلنڈر پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ محض گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران مختلف شہروں میں درجنوں افراد ایسے واقعات میں جانیں گنوا چکے ہیں۔

default

ایسے حادثات وہاڑی، حیداآباد، ٹیکسلا، لاہور اور اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں ہوئے ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف نومبر میں پچاس سے زائد افراد گاڑیوں کے سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ فیصل آباد میں اتوار کو ایک ایسے ہی حادثے میں باپ بیٹی سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں بغیر کسی روک ٹوک کے دنیا کے کسی بھی علاقے سے، کسی بھی طرح کا سلنڈر منگوا کر، کسی بھی شخص سے اپنی گاڑی میں لگوایا جا سکتا ہے۔

مقامی طور پر ایل پی جی سلنڈر بنانے والے ایک صنعتکار احسن بٹ کے مطابق ان حادثات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بعض ٹرانسپورٹرز پیسے بچانے کے چکر میں سی این جی کا چالیس ہزار روپے مالیت کا معیاری اور تصدیق شدہ سلنڈراستعمال کرنے کے بجائے روس یا بھارت سے سکریپ میں آیا ہوا آکسیجن کا سلنڈر رنگ کرکے صرف سات ہزار روپے میں لگوا لیتے ہیں، جس کی وجہ سے حادثے ہو رہے ہیں۔

ان کے بقول آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے چار کمپنیوں کو ایل پی جی سلنڈر تیار کرنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن ان میں سے تین کمپنیاں کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو چکی ہیں لیکن غیر معیاری سلنڈر بنانے والوں کی چاندی ہے اور انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ یعنی تیس لاکھ گاڑیاں اس وقت سی این جی پر چل رہی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق یہاں ناقص اور غیر معیاری سی این جی سلنڈر استعمال کرنے والی گاڑیوں کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔

گاڑیوں کے پرزے بنانے والے صنعتکاروں کی سب سے بڑی ایسوسی ایشن پاپام کے سربراہ سید نبیل ہاشمی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ان حادثات کی ذمہ داری حکومت، درآمدکنندگان، تاجروں اور گاڑیوں کے مالکان سمیت سب پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول سی این جی سلنڈر تجربہ کار انجینیئرز کی زیر نگرانی تصدیق شدہ مراکز سے ہی لگوائے جانے چاہییں۔ ان کے بقول ایسی گاڑیوں کا سالانہ معائنہ باقاعدگی سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بہت سے گاڑیوں میں سی این جی کے بجائے ایک پی جی کے سلنڈر استعمال ہو رہے ہیں جو سی این جی سلنڈر کے مقابلے میں پانچ گنا کم طاقت رکھتے ہیں۔

نبیل ہاشمی کہتے ہیں کہ گیس کی قلت کے باعث اب حکومت سی این جی کٹس کی درآمد پر پابندی لگا رہی ہے لیکن یہ تسلیم کرنے کو کوئی تیار نہیں کہ حکومت کی توانائی کی پالیسی ناکام ہو گئی ہے۔

سلنڈروں کے کاروبار سے وابستہ وقار احمد نامی ایک اور تاجر نے بتایا کہ سی این جی سلنڈر نہ کبھی پھٹا ہے اور نہ ہی پھٹ سکتا ہے۔

Pakistan Flash-Galerie

پاکستان میں تین لاکھ گاڑیوں میں غیرمعیاری سلنڈر استعمال کیے جا رہے ہیں

ان کے مطابق یہ ناقص کوالٹی کے ایل پی جی سلنڈر ہیں جو حادثات کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کے بقول اس کاوبار کے لیے حکومت کو لائسنس جاری کرنے چاہییں اور سلنڈرز پر سیکورٹی والو کا لگایا جانا ضروری قرار دیا جانا چاہیے تاکہ حادثے کی صورت میں گیس لیک نہ ہو سکے۔

ایک مسافر محمد اصغر نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کرایہ پورا لیتے ہیں لیکن زیادہ منافع کمانے کے لیے اپنی گاڑیوں کی مینٹینینس پر خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

ایک ماہر اقتصادیات فیصل باری کا خیال ہے کہ ایسے حادثوں میں زیادہ تر عام لوگ مرتے ہیں، اس لیے حکومت ان واقعات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ان کے بقول صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے قانون سازی کرنی چاہیے۔

ایک اور شہری کاشف نے بتایا کہ حادثے کی صورت میں گاڑی کے مالک کے خلاف رپورٹ درج ہونی چاہیے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس