1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

غیرقانونی ترک وطن، اطالوی کوسٹ گارڈز کے لیے مصروف ترین برس

اطالوی کوسٹ گارڈز نے رواں برس مختلف آپریشنز کے ذریعے قریب ایک لاکھ اسی ہزار مہاجرین کو بحیرہء روم کی موجوں کی نذر ہونے سے بچایا۔ ان تمام کارروائیوں کے باوجود سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اطالوی دارالحکومت روم کے جنوب میں ایک چھوٹی سی وزارتی عمارت میں ٹیلی فونوں کی سرخ گھنٹیاں بجتی سنائی دیتی ہیں اور لوگ دیواروں پر نصب مختلف بڑی بڑی اسکرینوں پر نقشوں کو دیکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیبیا کے پانیوں کے قریب اطالوی کوسٹ گارڈز کھلے سمندر میں مہاجرین کو بچانے کی بڑی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

اطالوی کوسٹ گارڈز کے ترجمان فیلیپو مارینی کا کہنا ہے، ’’جیسے ہی کوئی ہمیں مدد کے لیے کال کرتا ہے، ہم ایک مشن میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہم ایسی کسی صورت حال میں جائے واقعہ کے قریب ترین موجود کشتیوں یا بحری جہازوں کو ہدایات دیتے ہیں کہ وہ فوراﹰ ریسکیو زون میں پہنچیں۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس دفتر میں اب بھی امداد کے لیے کالوں کی تعداد یہاں موجود عملے سے کچھ بڑھ کر ہے۔ یہاں ریسکیو کارروائیوں کی ویڈیوز بھی مسلسل چلتی دکھائی دیتی ہیں۔

Mittelmeer Schiffsunglück Flüchtlingsboot vor der libyschen Küste gesunken (picture-alliance/dpa/Italian Coast Guard)

اطالوی کوسٹ گارڈز نے رواں برس درجنوں آپریشنز کیے

اٹلی کی آٹھ ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر اطالوی کوسٹ گارڈز کے گیارہ ہزار اہلکار ایک طرف تو ایکوسسٹم اور ماہی گیری کی صنعت کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بحیرہء روم میں مہاجرین کی کشتیوں کو بچانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق اطالوی کوسٹ گارڈز کی بنیادی ذمہ داری تو اٹلی کے ساحلوں کے قریب پانچ لاکھ مربع کلومیٹر کے سمندری علاقے کا تحفظ ہے، تاہم لیبیا اور اٹلی کے درمیان بین الاقوامی پانیوں میں بھی انہی کوسٹ گارڈز کو کارروائیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔

سن 2014ء میں بحیرہء روم میں مختلف آپریشنز کے ذریعے ایک لاکھ ستر ہزار مہاجرین کو ریسکیو کیا گیا تھا جب کہ گزشتہ برس ایک لاکھ 53 ہزار افراد کو بچایا گیا، تاہم رواں برس اب تک ایک لاکھ اسی ہزار افراد کو بچایا جا چکا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں بحیرہء ایجیئن کے ذریعے یونان پہنچنے والے افراد کی تعداد میں کمی کے بعد شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔