1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غیرت کے نام پر قتل

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں غیرت کے نام خواتین زندہ درگور کر دی گئی۔ کیا یہ قتل روایات کی پاسداری ہے یا جرم کو چھپانے کے لئیے روایات کا نام استعمال کیا جا رہا ہے؟

default

تقریباً سات ہفتے قبل بلوچستان کے شہر نصیرآباد میں مبینہ طور پرپانچ خواتین کو زندہ دفن کیے جانے کی خبر زباں زد عام ہے۔ کوئٹہ سے اسلام آباد تک سول سوسائٹی اس واقعے پر احتجاج کر رہی ہے۔ ان مظاہروں میں سول سوسائٹی ممبران کا مطالبہ یہ رہا ہےکہ اس کیس میں ملوث با اثر شخصیات کے خلاف کارروائی کی جائے۔ڈاکٹر فرزانہ باری، سماجی کارکن ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ ’’موجودہ حکومت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کیس کی تحقیقات کرے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ وہ ایک لبرل اور پروگریسو جماعت ہے ۔ یہ واقعہ ان کی حکومت لئے ایک امتحان ہے ۔انہیں چاہیے کہ وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔‘‘

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق غیرت کے نام پر ‍قتل کی جانے والی ان لڑکیوں کی عمر اٹھارہ سے بیس سال تھی۔ ان کا تعلق عمرانی قبیلے سے تھا اوروہ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی تھیں جس پر ان کے رشتہ داروں نے انہیں مارا پیٹا اور پھر زخمی حالت میں زندہ دفناکر دیا گیا۔ تا ہم بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر اسرار اللہ زہری اس واقعے کو قبائلی روایات کی پاسداری قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : ’’ بلوچی قانون کے مطابق کسی عورت کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جائے اور غلط کام کرے۔اس لڑکی کے والدین، رسم و رواج اور قبیلہ اس بات کو ہر گز بر داشت نہیں کر سکتا۔ اس اقدام کو ہم بالکل صحیح نہیں سمجھتے۔ ایک بلوچی سردار کی حیثیت سےمیرا یہ حق بنتا ہے کہ میں روایات اور بلوچی قوانین کا دفاع کروں‘‘۔

سینٹ کے ایک اجلاس میں بھی بلوچ سردار زہری نے کارو کاری یا سوارا کی رسومات کو بلوچی روایات کا حصہ کہا تھا، جس کے بعد بہت سے سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے ان کے اس بیان پر تنقید کی گئی۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیرسینیٹر زاہری کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’ ایسی روایات صرف کسی مجرم کی ہوسکتی ہیں، کسی بلوچی، پنچابی یا سندھی کی نہیں۔میں نےکئی بلوچ سرداروں سے بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنا بلوچی روایات کا حصہ ہے۔‘‘

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی یاسمین لہری بھی اس واقعے کی مذمت کرتی ہیں تا ہم ان کا کہنا ہے کہ چند عناصر اس واقعے کو بلوچستان کی روایات کا حصہ قرار دے کر غلط رنگ دے رہے ہیں: ’’ بلوچستان کی سیاسی صورتحال اچھی نہیں ہے۔ ڈیرہ بگتی خان اور کوہلو میں فوجی آپریشن کی صورتحال ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں بچے اور خواتین ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ حکومت کا رویہ جانبدار ہے۔ ان اصل مسائل کو چھپانے کے لئیے دوسری باتوں کو اچھالا جا رہا ہے۔‘‘

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے وہ سینیٹر زاہری کے بیان پر کافی ناراض ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ ہماری جماعت ہمیشہ بلوچستان کے عوام کی حقوق کی بات کرتی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ بلوچستان پر بمب گر رہے ہیں ہم کہتے ہیں کہ ایوب خان کے زمانے سے لے کر اب تک مسلسل بلوچستان پر ظلم ہو رہا ہے لیکن ہمارا مطالبہ صرف بلوچستان کے مردوں کے لئیے نہیں ہے بلوچستان کے بچوں اور عورتوں کے لئیے بھی ہے اور غریبوں کے لئے بھی ۔ ہم بلوچستان کے سرداروں کے ساتھ نہیں ہیں چاہے وہ سینٹ کے اندر ہیں یا باہر۔‘‘

لیکن سینیٹر اسرار اللہ زہری اس بات کے جواب میں کہتے ہیں کہ ’’ ملکی قوانین کے ساتھ بلوچستان میں بلوچ قوانین بھی لاگوہیں جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اگر وفاقی حکومت کی طرف سے بلوچ روایات اور رسم رواج کو چھیڑا گیا تو ممکن ہے کہ موجودہ صورتحال اور پیچیدہ ہوجائے۔‘‘

مبینہ واقعہ کے بارے میں درست معلومات اکٹھی کرنے کے لئے وفاقی حکومت نے ایک اعلٰی سطحی تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا ہے۔ اسی کمیشن کے تحت نصیر آباد سے دس کلو میٹر دور بابا کوٹ سے دو خواتین کی لاشیں ملی ہیں ۔ حکام کے مطابق ان خواتین کو ایک ہی گڑھے میں بغیر کفن کے ڈالا گیا تھا۔ وزیراعظم کے مشیر رحمن ملک کے مطابق اس کیس کی تحقیقاتی رپورٹ جلد ہی منظر عام ہوجائے گی۔