1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غیرت کے نام پر قتل ’غیر اخلاقی و ناجائز‘ ہے، علماء کا فتویٰ

پاکستان کے بااثر مذہبی علماء کے ایک گروپ نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔ علماء کی اس تنظیم کے ترجمان کے مطابق غیرت کے نام پر کسی کو قتل کرنا ’’غیر اخلاقی اور ناجائز‘‘ ہے۔

علماء کی تنظیم سنی اتحاد کونسل ’ایس آئی سی‘ کی جانب سے یہ فتویٰ گزشتہ دنوں کے دوران ملک میں غیرت کے نام پر قتل کے پے در پے رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں اس تنظیم کے جنرل سکریٹری مفتی سعید رضوی نے خبر رساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق اگر کسی مرد اور خاتون کو کوئی اعتراض نہ ہو تو دونوں اپنی مرضی سے شادی کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول، ’’ کسی بھی طرح سے قتل کرنا ( جلانا وغیرہ بھی) جیسا ابھی حال ہی میں لاہور کی معصوم بے گناہ زینت بی بی کے ساتھ کیا گیا ہے، یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

تمام علماء متفقہ طور پر اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک غیر قانونی، غیر آئینی، غیر جمہوری، غیر اخلاقی اور ناجائز عمل قرار دیتے ہیں۔ حکومت کو اس طرح کے واقعات پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے چاہیں۔‘‘ اس کونسل کے چالیس علماء نےاس فتوے کی حمایت کی ہے۔

ابھی حال ہی میں لاہور شہر میں ایک نوجوان لڑکی زینت بی بی کو پسند کی شادی کرنے پر زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس فتوے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام خواتین کے حقوق کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے، ’’غیرت کے نام پر قتل کا تعلق جہالت سے ہے مذہب سے نہیں‘‘۔ اس فتوے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قائم مقدموں کے ہفتوں کے دوران ہی فیصلے کیے جائیں اور اس تناظر میں آگاہی کی مہم بھی چلائی جائے۔

پاکستان میں ہر سال کئی سو خواتین کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ابھی گزشتہ جمعے کو محبت کی شادی کرنے پر تین افراد کو قتل کیا گیا۔