1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غیرت کے نام پر قتل، سخت سزا قانون میں شامل کر دی گئی

پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم پر پیش کردہ بل کی منظوری دے دی ہے۔ ترمیم کے بعد مجرم کو موت کی سزا پر معافی ملنے کی صورت میں بھی عمر قید کی سزا کا سامنا ہو گا۔

 

 

آج جمعرات کے روز پاکستانی پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے پیش کردہ مسودہٴ قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اِس بل کی منظوری پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوران متفقہ طور پر دی گئی۔ اراکین پارلیمنٹ کے مطابق پہلے سے موجود قانون میں پائی جانے والی بعض خامیوں کو رفع کر دیا گیا ہے۔

سابقہ قانون میں جو ترمیم کی گئی ہے، اُس کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے مجرموں کو سخت سزاؤں کا سامنا ہو گا۔ مجرم کو دی گئی موت کی سزا کو اگر مقتولہ کے خاندان والے معاف بھی کر دیں گے تو اُسے پچیس برس کی عمر قید ہر صورت میں بھگتنا ہو گی۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بل معاشرے کے اِس ناسور کو ختم کرنے میں یقینی طور پر بارآور ثابت ہو گا۔ پاکستانی ہیومین رائٹس کمیشن کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ’قصاص و دیت‘ کے نام پر آسانی سے بچ جایا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اِس قانون میں یہ ترمیم ایک اہم اور مثبت سماجی فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Qandeel Baloch Pakistan (picture-alliance/dpa/PPI)

مقتول قندیل بلوچ کو تقریباً تین ماہ قبل اُس کے بھائی نے قتل کر دیا تھا

اندازوں کے مطابق پاکستان میں سالانہ بنیاد پر تقریباً پانچ سو عورتیں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن نے گزشتہ برس ایسی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد بیان کی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ سابقہ قانون میں ترمیم کا بل سوشل میڈیا پر پاکستانی ’کم کارداشیان‘ مانی جانے والی قندیل بلوچ کے قتل کے تین ماہ بعد منظور کیا گیا ہے۔

اِس بل کی منظوری پر سابقہ سینیٹر صغریٰ امام نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی لوگوں کے بہتر رویے بنانے کے لیے کی جاتی ہے اور اِس کا مقصد عام لوگوں میں تخریبی رویوں کی حوصلہ شکنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امید کی جا سکتی ہے کہ اِس بل سے مثبت اثرات پاکستانی سوسائٹی پر مرتب ہوں گے۔ سابقہ سینیٹر صغریٰ امام نے اِس بل کو سب سے پہلے قانون سازی کے لیے پیش کیا تھا لیکن بعد میں ترمیم اور اضافوں کے ساتھ سنیٹر فرحت اللہ بابر نے اسے پارلیمنٹ میں متعارف کرایا۔