1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’غیرت کے نام پر قتل‘، بیلجیم میں پاکستانی نژاد خاندان کو سزا

بیلجیم کی ایک عدالت نے قتل کے جرم میں پاکستانی نژاد ایک خاندان کے چار افراد کو سزائیں سنا دی ہیں۔ اس گھرانے پر الزام تھا کہ اس نے اپنے ہی خاندان کی ایک خاتون رکن کو ’غیرت کے نام پر‘ قتل کر دیا تھا۔

default

پیر کو ہوئی عدالتی سماعت کے دوران ان افراد کو اپنی بہن اور بیٹی سعدیہ شیخ کو گولی مار کر ہلاک کر دینے کے جرم میں سزائیں سنائی گئیں۔ قتل کی یہ واردات بائیس اکتوبر2007ء کو ہوئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعدیہ کے والد طارق محمود کو پچیس برس، والدہ زاہدہ پروین کو بیس برس، بھائی مدثر شیخ کو پندرہ برس جبکہ بہن ساریہ شیخ کو پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی۔

اس گھرانے کے وکلاء نے بتایا ہے کہ قانون کی طالبہ بیس سالہ سعدیہ شیخ کے قتل کے جرم میں اس کے بھائی مدثر شیخ کو والدین کے مقابلے میں کم سزا سنائی گئی ہے، جس نے تین فائر کر کے اپنی بہن کو ہلاک کیا تھا۔ وکلاء کے بقول والدین کو اس لیے زیادہ سزا دی گئی کیونکہ عدالت میں یہ ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔

Symbolbild Ehrenmorde Gewalt gegen Frauen

بیلجیم میں کسی عدالت نےعزت کے نام پر قتل کرنے پر پہلی مرتبہ سزائیں سنائی ہیں

سعدیہ شیخ کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ وہ اپنے بیلجین بوائے فرینڈ کو چھوڑ کر پاکستان میں مقیم اپنے ایک ایسے کزن سے شادی کر لے، جس سے وہ کبھی نہیں ملی تھی۔ تاہم سعدیہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق بائیس اکتوبر سن 2007 کو سعدیہ کے گھر والوں نے اسے دھوکہ دہی سے گھر بلایا کہ وہ اس معاملے کو گفتگو کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ جب سعدیہ اپنے گھر پہنچی تو اس کے بھائی مدثر نے اسے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

مدثر نے عدالت میں پانچ خواتین اور سات مردوں کی جیوری کے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی بہن کو ہلاک کیا تھا۔ مدثر کی بائیس سالہ بہن ساریہ کو اس قتل میں معاونت کی جرم میں سزا سنائی گئی۔ مدثر نے یہ اعتراف بھی کیا کہ قتل کی یہ واردات پہلے سے ہی تیار کر لی گئی تھی۔

بیلجیم کے جنوب مغربی شہر مونز میں اس کیس کی سماعت شروع ہونے کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے ادارے بھی اس میں دلچسپی لے رہے تھے۔ انہوں نے اس کیس کے دوران ہونے والی پیشرفت کا غور سے جائزہ لیا۔ وکلاء استغاثہ نے کہا تھا کہ اس گھرانے کے تین افراد کو عمرقید جبکہ ساریہ کو بیس تا تیس برس کی سزائے قید سنائی جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس