1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غیرت کے نام پر قتل اور جنسی زیادتی سے متعلق نئے قوانین، پاکستانی پارلیمان میں بحث

پاکستانی پارلیمان جمعرات 21 جولائی سے ’غیرت‘ کے نام پر قتل اور جنسی زیادتی سے متعلق نئے مجوزہ قانونی مسودے پر بحث شروع کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کے قتل کے بعد یہ موضوع پاکستان بھر میں زیربحث ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والی قندیل بلوچ کو گزشتہ ہفتے اس کے بھائی نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستانی میڈیا پر یہ بحث مسلسل جاری ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قانون سازی کی جانا چاہیے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ارکان پارلیمان بھی ماضی میں ایسے قوانین متعارف کرانے کے مطالبات کرتے آئے ہیں، جن کے تحت خواتین پر تشدد یا انہیں غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جا سکیں، تاہم پاکستان میں حالیہ چند ہفتوں میں غیرت کے نام پر قتل کے پے در پے واقعات اور پھر قندیل بلوچ جیسی معروف ماڈل اور اداکارہ کی ہلاکت نے اس معاملے میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔

جمعرات کے روز پاکستانی ایوان زیریں اور ایوان بالا مشترکہ طور پر ان قانونی بلوں پر بحث کر رہے ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اگلے چند ہفتوں میں منظور کر لیے جائیں گے اور ان کا اطلاق بھی فوری طور پر ہو جائے گا۔

Qandeel Baloch Bloggerin

پاکستانی سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کو ان کے بھائی نے قتل کر دیا تھا

پاکستانی پارلیمان سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار حسن مرتضیٰ بخاری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’’اس وقت ایک کمیٹی ان بلوں کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے بعد یہ بل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جا رہے ہیں۔‘‘

ان کا تاہم کہنا تھا، ’’مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس پورے عمل میں کتنا وقت درکار ہو گا۔ اس بل میں کیا کچھ تجویز کیا گیا ہے، یہ کمیٹی کی جانب سے اسے پارلیمان میں پیش کرنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔‘‘

پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں حکمران مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل ہے، جب کہ کہا جا رہا ہے کہ ان قانونی بلوں کو سینٹ کی حمایت بھی حاصل ہے، لہذا بلوں کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

اس عہدیدار نے تاہم کہا کہ ان بلوں کے ذریعے ملکی قانون میں موجود سقم ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں عموماﹰ خواتین کا کوئی رشتہ دار ملوث ہوتا ہے، جب کہ موجودہ قانون کے تحت مقتولہ کے اہل خانہ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ قاتل کو معاف کر دیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ نئے قوانین میں یہ حق ختم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔