′غیرت کے نام پر قتل‘ ، اب مجرم کو سزائے موت دی جائے گی | وجود زن | DW | 07.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

'غیرت کے نام پر قتل‘ ، اب مجرم کو سزائے موت دی جائے گی

پاکستانی پارلیمنٹ نے ’غیرت کے نام‘ پر قتل کے حوالے سے پیش کردہ مسودہٴ قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اب ریپ کے مرتکب شخص کو عمر قید اور غیرت کے نام پر قتل کرنے والے شخص کو سزائے موت اور عمر قید کی سزا ہو سکے گی۔

سابقہ قانون میں جو ترمیم کی گئی ہے، اُس کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے مجرموں کو سخت سزاؤں کا سامنا ہو گا۔ مجرم کو دی گئی موت کی سزا کو اگر قتل کیے جانے والی عورت یا مرد کے خاندان والے معاف بھی کر دیں گے توبھی مجرم کو پچیس برس کی عمر قید ہر صورت میں بھگتنا ہو گی۔

پاکستانی ہیومین رائٹس کمیشن کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ’قصاص و دیت‘ کے نام پر آسانی سے بچ جایا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اِس قانون میں یہ ترمیم ایک اہم اور مثبت سماجی فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق ہر سال لگ بھگ ایک ہزار خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔۔ یہ امر اہم ہے کہ سابقہ قانون میں ترمیم کا بل سوشل میڈیا کی نامور شخصیت قندیل بلوچ کے قتل کے تین ماہ بعد منظور کیا گیا ہے۔ قندیل بلوچ کے قتل اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے واقعات کے بعد ، پارلیمانی لیڈرز اور غیر سرکاری تنظیموں نے غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم سازی کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی تھیں۔

شرمین عبید چنائے نے اس بل کی منظوری کے حوالے سے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا،’’ اب غیرت کے نام پر قتل کیے جانے والے شخص کو معاف نہیں کیا جا سکے گا۔ ان سب لوگوں کی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں جنھوں نے اس بل کو حقیقت  بنانے کے لیے کام کیا۔ اس بل سے ایک ہی رات میں سب کچھ تبدیل نہیں ہو جائے گا لیکن یہ بل صحیح سمت کی طرف ایک قدم ہے۔‘‘

اسانی حقوق کی سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ  نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ عمر قید کا مطلب ہے کہ مجرم بارہ سے چودہ سال میں رہا ہو جائے گا لیکن انسانی حقوق کے کارکن چاہتے ہیں کہ مجرم کو تاحیات قید کی سزا دی جائے اور ریاست کو مقتولہ کا ولی بننا چاہیے۔‘‘ طاہرہ عبداللہ کہتی ہیں کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس گھناؤنے جرم پر پارلیمان توجہ دے رہا ہے یہ بہت بڑی بات ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں  ریپ سے متعلق بھی ایک بل منظور کر لیا گیا ہے۔ موجودہ قانون کے تحت صرف میڈیکل ٹیسٹ سے حاصل شدہ ثبوت جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ لیکن اس بل کے مطابق اب عدالت میں میڈیل ٹیسٹ اور ڈی این ٹیسٹ بھی پیش کیے جا سکیں گے۔ اس بل کے حوالے سے ایک غیر سرکاری تنظیم ’وار اگینسٹ ریپ‘ کے پروگرام آفیسر شیراز احمد نے بتایا، یہ بل اچھی پیش رفت ہے، پاکستان میں  سن 2014 سے 2015 میں جنسی ہراساں کیے جانے کے 2521 کیسز درج کیے گئے تھے۔  شیراز احمد کہتے ہیں، ’’بل میں ڈی این اے ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، اگر پولیس افسر جرم کی صحیح طریقے سے کاروائی نہیں کرتا تو اسے بھی سزا دی جائے گئی۔ اس کے علاہ اب ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کی ہسٹری نہیں دیکھی جائے گی۔‘‘

 شیراز احمد کے مطابق بل کے تحت اب ریپ کے کیسز کوچھ مہینے کے اندر نمٹانے کی بات کی گئی ہے جو ایک بہت اچھی شق ہے، جتنی جلد کیسسز حل ہوں گے اتنی خواتین حوصلہ کر کے سامنے آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ریپ کا شکار ہونے والی اکثر خواتین قانونی پیچیدگیوں، پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور عدالتوں کے سامنے اپنے ہی ریپسٹ کا سامنا کرنے سے انتہائی پریشانی ا ور تکلیف کا شکار ہوتی تھیں۔ بل کے مطابق  جو شخص کسی نابالغ  یا کسی ایسے فرد کا ریپ کرے جس کا ذہنی توازن درست نہیں ہے تو اسے موت کی سزا سنائے جا سکے گی۔

اسی بل کے حوالے سے  طاہرہ عبداللہ نے ڈی ڈبلیوکو بتایا،’’ اس بل کے تحت اب ریپ کا شکار ہونے والی عورتیں کی شناخت نہیں کی جائے گی ان کی تصویر اخباروں اور تی وی پر نہیں دکھائے جائے گی اور انہیں تفتیش کے دوران ریپسٹ سے الگ رکھا جائے گا جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے دیا گیا بیان بھی قابل قبول ہو گا۔‘‘