1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

’غیرت‘ کے نام پر ایک نوجوان جوڑا قتل

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک نوجوان جوڑے کو ایک پشتون جرگے کے حکم پر ’غیرت کے نام‘ پر بجلی کے جھٹکوں سے ہلاک کر دیا گیا۔ یہ جوڑا گھر سے بھاگ کر شادی کرنا چاہتا تھا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق کراچی پولیس نے بتایا کہ پشتون جرگے کے ارکان کے حکم پر اس جوڑے کو قتل کیا گیا۔  پولیس افسر امان مروت نے لڑکے اور لڑکی کے والد اور چچاؤں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ جرگے کہ ان تیس ارکان کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اس واقعے کے بعد فرار ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:04

غیرت کے نام پرقتل، سدباب کیا ؟

امان مروت نے روئٹرز کو بتایا،’’ اس معصوم جوڑے کو چارپائی سے باندھا گیا اور پھر انہیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔‘‘ مروت کے مطابق پندرہ سالہ لڑکی مبینہ طور پر اپنے سترہ سالہ بوائے فرینڈ کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی۔ اس لڑکی کو پہلے قتل کیا گیا اور دفن کر دیا گیا۔ اگلے دن لڑکے کو بھی جان سے مار دیا گیا۔ مروت کا کہنا ہے کہ اس نے بطور پولیس افسر اپنے پچیس سالہ تجربے میں غیرت کے نام پر قتل کے کئی واقعات دیکھے ہیں۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ذہرہ یوسف نے روئٹرز کو بتایا،’’ یہ قتل پاکستانی معاشرے کے قبائلی ہونے کو ظاہر کرتے ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے زیادہ طاقت جرگوں کے پاس ہے۔‘‘ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک ہزار سے زائد عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:03

پاکستان: انصاف کی متلاشی خواتین

اکثر دیہی علاقوں میں جرگے یا پنچائیت کے ارکان مقامی افراد کے درمیان تنازعات سے متعلق فیصلے کرتے ہیں۔ جرگوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے لیکن اکثر ان کے فیصلے کا احترام کیا جاتا ہے اور ان پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

کراچی کے اس حالیہ قتل کے واقعے میں لڑکی کے گھر والے لڑکی کی شادی کرانے کے لیے تیار ہوگئے تھے لیکن جرگے کا یہ فیصلہ تھا کہ اگر دونوں خاندانوں نے لڑکے اور لڑکی کو قتل نہ کیا تو گاؤں میں رہائش پذیر ان کے گھر والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بھائی نے بہن اور بھانجی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا

’غیرت‘ کے نام پر ایک اور قتل

کراچی کی ایک وکیل ملیحہ ضیا  کا کہنا ہے،’’ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے قانون کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ لڑکے کے والد کو یہ یقین ہی نہیں تھا کہ ریاست اس کی مدد کر سکتی ہے اور جرگے کے ارکان کو بھی ریاست کا کوئی خوف نہیں تھا۔‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic