1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

’غیرت‘ کے نام پر ایک اور قتل

ملتان میں ایک شخص نے اپنی بہن اور اس کے ہونے والے شوہر کو عدالت کی احاطے میں اس وقت قتل کر دیا جب وہ دونوں اپنی شادی رجسٹر کراونے پہنچے تھے۔

نیوز ایجنسی اے ایف کی رپورٹ کے مطابق 22 سالہ خاتون کا خاندان اس کی پسند کی شادی کے خلاف تھا جس وجہ سے یہ لڑکی اپنا گھر چھوڑ کر اس شخص کے ساتھ فرار ہو گئی تھی جس سے وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ کئی روز بعد وہ ملتان ہائی کورٹ پہنچی تھی تاکہ وہ اپنی شادی کو رجسٹر کر وا سکے۔

مقامی پولیسی اسٹیشن کے  افسر راؤ طارق نے اے ایف پی کو بتایا،’’ لڑکی کے بھائی کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ عدالت پہنچ  رہی ہے۔ جب اس نے انہیں دیکھا تو اس شخص نے دونوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔‘‘ بعد میں قتل کرنے والے شخص نے خود ہی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 01:41

پاکستان: نیا قانون غیرت کے نام پر قتل کے خلاف ایک امید

سینیئر پولیس افسر اشفاق گجر کا کہنا ہے کہ اس شخص کی بہن تو فوری ہلاک ہو گئی تھی اور لڑکا زخمی حالت میں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

پاکستان میں ہر سال سینکڑوں لڑکیوں اور عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ماضی میں غیرت کے نام پر قتل کر دینے کے جرم میں مجرم کو مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے معاف کر دینے کی صورت میں سزا نہیں ملتی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 01:04

غیرت کے نام پرقتل، سدباب کیا ؟

 گزشتہ برس جولائی میں انٹر نیٹ اسٹار قندیل بلوچ کے قتل کے بعد غیرت کے نام پر قتل کر دینے کے حوالے سے قانون میں سختی کی گئی ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کے مطابق اب قاتل کو مقتول کے اہل خانہ معاف بھی کردیں تو اسے  عمر قید یا سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود اس بل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل جیسی فرسودہ روایت کے خاتمے کے لیے قوانین میں مزید سختی لانا ہوگی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic