1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’غير مسلم پناہ گزين ديگر مہاجرين کے رحم و کرم پر‘

جرمنی ميں سرگرم مسيحيوں کی ايک بين الاقوامی تنظيم نے اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں انکشاف کيا ہے کہ مہاجر کيمپوں ميں مذہبی اقليتوں سے تعلق رکھنے والے تارکين وطن کو فراہم کردہ تحفظ ناکافی ہے۔

اس رپورٹ کے ليے جرمنی ميں قيام پذير 231 مسيحی پناہ گزينوں سے سوال جواب کيا گيا، جس ميں سے نصف سے زائد تعداد نے دعوی کيا ہے کہ مسلمان تارکين وطن اور گارڈز نے ان کے ساتھ غلط برتاؤ کيا يا ان کی موجودگی کا فائدہ اٹھايا ہے۔ يہ انکشاف عالمی سطح پر مسيحيوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافيوں پر نظر رکھنے والی ’اوپن ڈورز جرمنی‘ نامی ايک بين الاقوامی تنظيم نے پير نو مئی کو جاری کردہ اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں کيا ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ مطالعے ميں شامل کردہ اکثريتی پناہ گزينوں کا تعلق افغانستان اور ايران سے تھا۔

جرمن دارالحکومت برلن ميں ايک پروٹيسٹنٹ وزير کے بقول ايک مرتبہ مسيحی مہاجرين کو مسلمانوں کی نماز ميں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے دھمکياں دی گئيں۔ ’اوپن ڈورز جرمنی‘ نے حکام کو تجويز دی ہے کہ مسيحی، يزيدی اور ديگر غير مسلم پناہ گزينوں کو علیحدہ اور مخصوص مراکز ميں الگ رکھا جائے۔

اس رپورٹ کے ليے جرمنی ميں قيام پذير 231 مسيحی پناہ گزينوں سے سوال جواب کيا گيا

اس رپورٹ کے ليے جرمنی ميں قيام پذير 231 مسيحی پناہ گزينوں سے سوال جواب کيا گيا

جرمنی پہنچنے والے تارکين وطن ميں نماياں کمی

دريں اثناء جرمنی پہنچنے والے تارکين وطن کی تعداد ميں رواں برس اپريل ميں نماياں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اپريل ميں مجموعی طور پر سولہ ہزار پناہ گزين جرمنی پہنچے جبکہ مارچ ميں يہ تعداد بيس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ گزشتہ برس دسمبر ميں 120,000 مہاجرين جرمنی پہنچے تھے۔ اپريل ميں سياسی پناہ کے ليے جرمنی آنے والوں ميں سب سے زيادہ تعداد شامی باشندوں کی تھی، کُل 2,724 شامی تارکين وطن جرمنی آئے۔ تعداد کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر افغان پناہ گزين رہے، جن کی تعداد 2,063 تھی۔ اپريل سن 2016 ميں 1,853 عراقی پناہ گزين جرمنی پہنچے۔

يہ امر اہم ہے کہ جرمنی ميں گزشتہ برس ايک ملين سے زائد تارکين وطن سياسی پناہ کے ليے آئے تھے۔ تاہم يورپی يونين اور ترکی کے مابين مارچ ميں طے پانے والی ڈيل کے نتيجے ميں بلقان ممالک سے گزر کر مغربی يورپ پہنچنے والے پناہ گزينوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ دوسری جانب يورپی حکام کو خدشہ ہے کہ موجودہ صورتحال ميں ليبيا سے بحيرہ روم اور پھر اٹلی کے ذريعے غير قانونی ہجرت کا ايک نيا روٹ نمودار ہو سکتا ہے۔