1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’غنی کا غصہ قابلِ فہم ہے‘، افغان وفد پاکستان میں

افغان حکام کا ایک وفد افغان طالبان کے ساتھ تعطل کے شکار امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ اس وفد کی قیادت وزیرخارجہ صلاح الدین کر رہے ہیں۔

اس وفد میں قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر، قائم مقام وزیردفاع معصوم ستانکزئی اور انٹیلی جنس کے سربراہ رحمت اللہ بھی شامل ہیں۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سر تاج عزیز کا کہنا ہے کہ جمعرات کو افغان حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے پر تبادلہٴ خیال کیا جائے گا۔

افغان حکام کا یہ دورہ اُن حملوں کے چند روز بعد عمل میں آ رہا ہے، جن میں کابل میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان حملوں سے کچھ ہی پہلے افغان طالبان کی قیادت میں بھی تبدیلی آئی تھی اور ان حملوں نے حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ حملے طالبان کے نئے لیڈر ملا محمد اختر منصور کی جانب سے حکومت کے نام اس پیغام کی حیثیت رکھتے ہیں کہ طالبان مسلح بغاوت میں کوئی کمی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

افغانستان میں تازہ پُر تشدد واقعات کے بعد افغان صدر اشرف غنی پاکستان پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ طالبان کے خلاف اپنی کارروائی تیز تر کر دے۔ افغانستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ طالبان کے ان مراکز کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے، جہاں سے اُس طرح کے حملے ہوتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ اختتامِ ہفتہ پر دیکھنے میں آیا۔ دوسری طرف پاکستان کا موقف یہ ہے کہ وہ خود اس وقت مسلح بغاوت کا شکار ہے۔

پچھلے مہینے پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی۔ طالبان پچھلے تیرہ سال سے اپنی اُس حکومت کی بحالی کے لیے لڑ رہے ہیں جو کہ امریکی فوج کی مداخلت کے بعد ختم ہوگئی تھی۔

جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا، پاکستان کی پہلی کوشش یہی ہو گی کہ وہ مفاہمتی کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہاکہ ’اشرف غنی کا غصہ جائز ہے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ افغان وفد کے ساتھ مذاکرات کے دوران ان کی غلط فہمیاں دور کر سکیں‘۔ سرتاج عزیز نے کہا:’’افغانستان کے لوگ مایوس اور پریشان ہیں کیونکہ بم دھماکے اور امن مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔‘‘