1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’غلطیوں کے بادشاہ‘، برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ

بریگزٹ کے لیے مہم چلانے والے بورس جانسن کو نئی برطانوی حکومت میں ملک کا نیا وزیر خارجہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ ان کو اس عہدے پر فائز کیے جانے پر یورپی میڈیا کی طرف سے حیرانی کا اور بعض جگہ ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئی وزیراعظم ٹریزا مے نے حیران کُن طور پر لندن کے سابق میئر بورس جانسن کو جنہیں ان کی عجیب و غریب سیاسی حرکات کی وجہ سے جانا جاتا ہے، یورپ سے الگ ہونے کے لیے برطانیہ کا اعلیٰ ترین سفارت کار یعنی وزیر خارجہ مقرر کر دیا ہے۔

جرمن روزنامے ’ڈی ویلٹ‘ کے مطابق بہت سے لوگوں نے اس ’دھماکا خیز‘ تقرری کو ایک مذاق سمجھا۔ اخبار نے جانسن کے ان بیانات کا حوالہ بھی دیا جن میں انہوں نے یورپی یونین کو اڈولف ہٹلر سے تشبیہ دی تھی اور ہیلری کلنٹن کو ’دماغی امراض کے ہسپتال کی ایک ایسی نرس جو دوسروں کو تکلیف دے کر خوشی محسوس کرے‘ کہا تھا۔

اخبار مزید لکھتا ہے، ’’یہ حقیقت کے ٹریزا مے نے ۔۔۔ دیگر تمام لوگوں میں سے اس غیر سفارتی، ناقابل اعتبار اور غیر وفادار فرد کو وزیر خارجہ مقرر کر دیا ہے، ابتدائی طور پر مضحکہ خیز لگتی ہے۔‘‘

فرانس کے اخبار لبریشن نے اپنے پڑھنے والوں کو یاد دلایا کہ بورس جانسن ’کبھی بھی وزارت کے عہدے پر فائز نہیں رہے اور چند دن قبل ہی وہ ٹوری پارٹی کی سربراہی کی دوڑ سے عجیب و غریب انداز سے الگ ہو گئے تھے‘۔

ڈیئر اشپیگل لکھتا ہے کہ جانسن ’خود بھی اس تقرری پر حیران‘ دکھائی دیے

ڈیئر اشپیگل لکھتا ہے کہ جانسن ’خود بھی اس تقرری پر حیران‘ دکھائی دیے

جرمن نیوز میگزین ’ڈئیر اشپیگل‘ نے اپنی آن لائن کمنٹری کی سُرخی ’ہاؤس آف کارڈز اِن بریٹن‘ جمائی ہے۔ اس کمنٹری میں کہا گیا ہے، ’’بورس جانسن، بریگزٹ کے بادشاہ کو اب وزیر خارجہ کے عہدے سے نوازا گیا ہے، جنہوں نے ووٹ کے بعد اپنا سر ریت میں دھنسا لیا تھا۔‘‘

لندن سے لکھے گئے اس کے مرکزی آرٹیکل میں ڈیئر اشپیگل لکھتا ہے کہ جانسن ’خود بھی اس پر حیران‘ دکھائی دیے کیونکہ ووٹنگ کے بعد انہیں بڑے پیمانے پر ’برطانیہ کا سب سے زیادہ پریشان شخص‘ قرار دیا جا رہا تھا۔

آرٹیکل میں مزید لکھا گیا ہے کہ مے نے جانسن کو یہ عہدہ دے کر ’پارٹی کے دلجوئی اور ووٹرز کو یہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔۔۔ کہ وہ ریفرنڈم کے نتائج کو سنجیدگی سے لیتی ہیں۔‘

یاد رہے کہ ٹریزا مے برطانیہ کے یورپی یونین میں ہی رہنے کے حق میں تھیں۔ تاہم وزیراعظم بننے سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ برطانوی عوام نے اب یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، لہٰذا اس پر عمل ہونا چاہیے۔