1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غصے کو نفرت اور تعصب میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے، گاؤک

اپنے سالانہ کرسمس پیغام میں جرمن صدر یوآخم گاؤک نے ہمدردی اور ہم آہنگی کی بات کرتے ہوئے نفرت اور تعصب سے خبردار کیا ہے۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف غصےکو کسی صورت بھی نفرت اور تشدد میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

جرمن صدر یوآخم گاؤک نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب جرمنی دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے:’’ہمیں اپنے معاشرے میں تقسیم کو مزید وسعت دینے، کسی گروہ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے اور تمام سیاستدانوں کو قصووار قرار دینے سے احتراز کرنا چاہیے۔‘‘ گاؤک کے بطور صدر کرسمس کے اس آخری پیغام میں برلن میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعے کا موضوع ہی چھایا رہا۔ گاؤک اگلے برس فروری میں ہونے والی صدارتی انتخابات میں دوبارہ سے امیدوار بننے سے انکار کر چکے ہیں۔

گاؤک کے مطابق:’’برلن کی کرسمس مارکیٹ پر حملے میں ہونے والی ہلاکتوں نے ہمیں انتہائی خوف ذدہ اور پریشان کر دیا ہے۔ اس موقع پر لوگ غصے میں ہیں، ڈرے ہوئے ہیں اور خود کو کمزور محسوس کر رہے ہیں۔‘‘ گاؤک نے خبردار کیا کہ اس طرح کے جذبات اور غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے اسے نفرت یا تشدد میں تبدیل ہونے سے ہر حال میں روکنا ہو گا۔

Berlin Trauer Weihnachtsmarkt Breitscheidplatz

گاؤک کے بطور صدر کرسمس کے اس آخری پیغام میں برلن میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعے کا موضوع ہی چھایا رہا

گاؤک نے جرمن معاشرے میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا اور خاص طور پر سیاسی سطح پر مہاجرین کے حوالے سے پالیسیوں پر بھی۔ جرمن صدر نے زور دیا کہ مہاجرین کے بارے میں پالیسیوں پر سیاسی سطح پر بات چیت ہونا لازمی ہے اور ساتھ ہی اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا جانا ضروری ہے کہ مستقبل میں اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے مزید کیا کچھ کیا جانا چاہیے۔

صدر نے جرمن شہریوں سے کہا کہ وہ حکومت پر بھروسہ رکھیں اور معاشرے کو پر امن اور متحد رکھنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کریں۔ اپنے خطاب میں یوآخم گاؤک نے ان ہزاروں رضاکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے جرمنی آنے والے مہاجرین کی مدد کی اور انہیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ وہ اجنبی ہیں: ’’ غیر یقینی حالات میں معاشرے کے ان افراد کے مؤثر اقدامات کو سراہا جانا بھی ضروری ہے۔ اس لیے نہیں کہ ان افراد نے کوئی غیر معمولی کام کیا ہے بلکہ انہوں نے یہ کام غیر معمولی انداز میں اچھے طریقے سے کیا ہے۔‘‘