1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غزہ کے لیے نیا فلوٹیلا، اسرائیل کی پریشانی میں اضافہ

گزشتہ برس غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے ایک قافلے پراسرائیلی کارروائی میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اب ایک نئے قافلے کی روانگی سے قبل دنیا کی واحد یہودی ریاست کو سیاسی سمندر میں مزید گہری مشکلات کا سامنا ہے۔

default

گزشتہ برس مئی میں اسرائيل کے زير محاصرہ فلسطينی علاقے غزہ کے لئے امدادی اشياء لے جانےوالے نو بحری جہاز روانہ ہوئے۔ اسرائيلی فوج نے بحيرہء روم ميں اس بحری قافلے پر حملہ کر کے نو ترک امدادی کارکنوں کو ہلاک کرديا تھا۔ اس واقعہ کے بعد انقرہ اور یروشلم کے مابین سیاسی تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ ساتھ ہی اس ہلاکت خيز کارروائی کی دنیا بھر میں شدید الفاظ میں مذمت بھی کی گئی اور ایک دم اسرائیل عالمی سطح پر تنہا ہو گیا تھا۔

Boote im Meer von Gaza

غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی کئی مرتبہ ناکام کوششیں کی جا چکی ہیں

اب اس واقعے کو تقریباً ایک سال بیت گیا ہے۔ ابھی بھی ترکی اور اسرائیل کے باہمی تعلقات میں سرد مہری برقرار ہے۔ لیکن ساتھ ہی اسرائیل کو اب ایک اور بحران کا سامنا ہے اور وہ ایک نیا ’فریڈم فلوٹیلا‘ ہے، جو غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر 15بحری جہازوں پر مشتمل یہ قافلہ جون کے آخر میں روانہ ہو گا۔ ایک اسلامی خیراتی تنظیم آئی ایچ ایچ کے مطابق اس مرتبہ 100سے زائد ممالک کے تقریباً 15سو کارکن اس امدادی مشن میں شرکت کر رہے ہیں۔ آئی ایچ ایچ کے سربراہ بولینٹ یلدرم نے کہا، ’’اگراسرائیلی حکام کا تھوڑا سا بھی ضمیر باقی ہے تو وہ دوسری مرتبہ امدادی قافلے کی راہ کی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔‘‘

گزشتہ برس سے لے کر اب تک کئی مرتبہ امدادی جہازوں نے اسرائیلی ناکہ بندی توڑتے ہوئے غزہ تک جانے کی کوشش کی لیکن ہر مرتبہ انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ابھی دو ہفتے قبل ہی اسرائیلی بحریہ نے ملائشیا کے ایک امدادی جہاز کو انتباہی فائرنگ کرتے ہوئے مصر کی جانب مڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

Israelischer Angriff auf Hilfskonvoi für Gaza

ترکی نے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر اسرائیل سے شدید احتجاج کیا تھا

ترکی ابھی تک یروشلم حکام سے گزشتہ برس کی اسرائیلی کارروائی میں ہلاک ہونے والے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر معافی اور ہونے والے نقصان کی تلافی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ساتھ ہی ترکی نے اسرائیل کو نئے فلوٹیلا کے خلاف کسی بھی خونریز کارروائی سے خبردار کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کے لیے امدادی سامان کے ایک بیڑے کے منصوبے کو اشتعال انگیز اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل اس بات کو ممکن بنانےکی بھرپور کوشش کرے گا کہ صرف وہ امدادی سامان ہی غزہ تک پہنچے، جس کی باقاعدہ طور پر چیکنگ کی جا چکی ہو۔ تاکہ اسلحہ اور دیگر آتشی سامان کی اسمگلنگ کو روکا جاسکے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس